تعلیمِ نسواں کی اہمیت و ضرورت

تحریر : مفتی محمد آصف اقبال قاسمی
مذہبِ اسلام میں علم کی اہمیت
مذہبِ اسلام میں علم کو بنیادی اور مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اس کی سب سے بڑی اور واضح دلیل یہ ہے کہ وحیِ الٰہی کا آغاز ہی لفظ “اقرأ” سے ہوا۔ قرآن مجید کی یہ پہلی ہدایت اس بات کا اعلان ہے کہ اسلام کی بنیاد علم و آگہی پر قائم ہے۔ حالانکہ یہ وہ دور تھاکہ عرب میں بلکہ پوری دنیا میں شرک و کفر کاعروج تھا معصیت ونافرمانی کے ایسی ایسی گھناؤنی شکلیں موجود تھیں کہ الامان والحفیظ ۔ لیکن خالق کائنات رب ذوالجلال جو مدبرکائنات ہےاسے معلوم تھاکہ ان تمام گمراہیوں کا سد باب علم کے ذریعہ ہی ہوسکتاہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے جب دنیا کے لئے ہدایت کا فیصلہ کیا اور اپنی محبوب نبی ﷺ کو مبعوث کرنے کا اعلان کیا تو سب سے پہلا حکم جو اپنے نبی ﷺ پر نازل فرمایا وہ پڑھنے پڑھانے اور تعلیم و تعلم سے متعلق ہے۔وہ پانچ آیات قرآنیہ جو سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوئیں وہ یہ ہیں
(4) اِقْرَأ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ ۚ﴿۱﴾خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ ۚ﴿۲﴾اِقْرَاْ وَ رَبُّکَ الْاَکْرَمُ ۙ﴿۳﴾الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ ۙ﴿۴﴾عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْ
پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔تو پڑھتا رہ تیرا رب بڑے کرم والا ہے۔جس نے قلم کے ذریعے (علم) سکھایا۔جس نے انسان کو وہ سکھایا جسے وہ نہیں جانتا تھا۔۔( سورہ اقرا پارہ 30)
ان آیات سے بالکل واضح ہوجاتاہے کہ علم ایک بنیادی چیز ہے جوانسانیت کی معراج اور اس کی ھدایت و ترقی کی سیڑھی ہے ۔ یہ وہ چیز ہے جس نے انسان کو اشرف المخلوقات کے عظیم عہدے پر فائز کیا اور کائنات میں ایک نمایاں حیثیت عطا کیا ۔
حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کے بعد اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے انہیں علم ہی سے نوازا، اور اسی علم کی بنا پر انسان کو زمین میں خلافت کا منصب عطا ہوا۔ گویا حق و باطل، خیر و شر اور نفع و نقصان کی تمیز کا اصل ذریعہ علم ہی ہے۔
علم تمام اعمال و عبادات کا مقدمہ ہے۔ کوئی بھی عبادت یا معاملہ صحیح علم کے بغیر درست طور پر انجام نہیں پا سکتا۔ قوموں کے عروج و زوال کا دار و مدار بھی علم پر ہے۔ جب تک علم زندہ رہتا ہے قومیں ترقی کرتی ہیں، اور جب علم کا چراغ بجھنے لگتا ہے تو زوال کی تاریکیاں پھیل جاتی ہیں۔
حصول علم کے لئے سفر جنت کا سفر ہے
علم حاصل کرنے کی غرض سے سفر کرنا یا اس میں اپنے مال صرف کرنا یہ سب جنت کی طرف جانے اور اس کی تیاریوں کے مماثل ہےاور یہ عمل اللہ تعالیٰ کو اتنا پسندیدہ ہے کہ اللہ فرشتے بھی اس پر رشک کرتےہیں اور طالب علم کی عظمت اور اس کی عزت افزائی کےلئے اپنا پر اس کے قدموں میں بچھا دیتے ہیں ۔ ایک روایت حضرت ابو دردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ دمشق کی جامع مسجد میں بیٹھے تھے کہ ایک آدمی آیا اور اس نے کہا کہ اے ابو درداء ؓ میں نے سنا ہےکہ آپ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے احادیث بیان کرتے ہیں ۔ انہیں احادیث کو سننے اور انہیں یاد کرنے کے لئےآپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں ۔حدیث سننے کے علاوہ اور کوئی مقصد نہیں ہے ۔ تو حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے ایک حدیث بیان کی۔جو درج ذیل ہے:
قَالَ: فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:” مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَطْلُبُ فِيهِ عِلْمًا سَلَكَ اللَّهُ بِهِ طَرِيقًا مِنْ طُرُقِ الْجَنَّةِ، وَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَتَضَعُ أَجْنِحَتَهَا رِضًا لِطَالِبِ الْعِلْمِ، وَإِنَّ الْعَالِمَ لَيَسْتَغْفِرُ لَهُ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ وَالْحِيتَانُ فِي جَوْفِ الْمَاءِ، وَإِنَّ فَضْلَ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ كَفَضْلِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ عَلَى سَائِرِ الْكَوَاكِبِ، وَإِنَّ الْعُلَمَاءَ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ، وَإِنَّ الْأَنْبِيَاءَ لَمْ يُوَرِّثُوا دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا وَرَّثُوا الْعِلْمَ فَمَنْ أَخَذَهُ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ۔( سنن ابي داود۔كِتَاب الْعِلْمِ۔حدیث نمبر: 3641)
ابوالدرداءرضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص طلب علم کے لیے راستہ طے کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اسے جنت کی راہ چلاتا ہے اور فرشتے طالب علم کی بخشش کی دعا کرتے ہیں یہاں تک کہ مچھلیاں پانی میں دعائیں کرتی ہیں، اور عالم کی فضیلت عابد پر ایسے ہی ہے جیسے چودھویں رات کی تمام ستاروں پر، اور علماء انبیاء کے وارث ہیں، اور نبیوں نے اپنا وارث درہم و دینار کا نہیں بنایا بلکہ علم کا وارث بنایا تو جس نے علم حاصل کیا اس نے ایک وافر حصہ لیا“
اسلام میں تعلیم: مرد و زن کے لیے یکساں
اسلام نے تعلیم کو صرف مردوں تک محدود نہیں رکھا بلکہ مرد و عورت دونوں کو علم حاصل کرنے کی ترغیب دی ہے۔رسول اللہ ﷺ نے علم اور تعلیم کی فضیلت اور ترغیب بیان کرتے وقت مرد و عورت کا امتیاز نہیں رکھا بلکہ پوری امت کو علم حاصل کرنے اور اس کی ترویج واشاعت کاحکم دیا ہے ۔آپ ﷺ کا ارشاد ہے :
طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ( سنن ابن ماجه۔أبواب كتاب السنةحدیث نمبر: 224)

علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔
اس حدیث میں مسلم میں مردو عورت دونوں داخل ہیں اور ہرایک کو بقدر ضرورت علم حاصل کرنا ضروری ہے ۔ جس طرح مرد پر دینی اور دنیاوی علوم کا حصول ضروری ہے، اسی طرح عورت کے لیے بھی زیورِ تعلیم سے آراستہ ہونا لازم ہے تاکہ وہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کو صحیح طور پر ادا کر سکے اور اپنی اولاد کی اسلامی خطوط پر تربیت کر سکے۔
معاشرہ مرد اور عورت دونوں سے مل کر تشکیل پاتا ہے۔ عورت معاشرے کا نصف حصہ ہے۔ اگر عورت تعلیم و تربیت سے محروم ہو تو معاشرہ کبھی بھی صالح اور متوازن نہیں بن سکتا۔ مرد و عورت انسانی معاشرے کی گاڑی کے دو پہیے ہیں، ایک میں نقص ہو تو گاڑی صحیح سمت میں نہیں چل سکتی۔اس لئے لازم ہے کہ مردو زن ہر دو اس قدر علم حاصل کریں کہ اپنی دینی و دنیاوی ضروریات بطریق احسن پوری کرسکیں۔
عورت کی تعلیم و تربیت پر نبوی تاکید
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کی تعلیم و تربیت کی خصوصی تلقین فرمائی۔ احادیثِ مبارکہ میں لڑکیوں کی پرورش اور تعلیم پر عظیم اجر کی بشارت دی گئی ہے۔
ایک حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا :
مَنْ عَالَ جَارِيَتَيْنِ حَتَّى تَبْلُغَا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنَا وَهُوَ، وَضَمَّ أَصَابِعَهُ “( صحيح مسلم۔كتاب البر والصلة والآداب۔حدیث نمبر: 6695)
جس شخص نے دو لڑکیوں کی ان کے بالغ ہونے تک پرورش کی، قیامت کے دن وہ اور میں اس طرح آئیں گے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو ملایا۔
جس نے اپنی دولڑکیوں کی تعلیم و تربیت ان کے بلوغت تک کی اس کے لئے بشارت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جنت میں اسی طرح داخل ہوگا جس طرح دو انگلیا ںملی ہوتی ہیں۔ اس سے بڑی بشارت اور فضیلت اورکیا ہوسکتی ہےکہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جنت میں داخلہ کا موقع ملے۔
یہ تعلیمات اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ اسلام میں عورت کی حیثیت نہایت بلند اور باوقار ہے۔
قرونِ اولیٰ میں خواتین کا علمی کردار
اسلامی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ابتدائی ادوار میں خواتین نے علم و فضل میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ ازواجِ مطہرات اور صحابیات رضی اللہ عنہن نے قرآن و حدیث کے علوم میں مہارت حاصل کی اور امت کی رہنمائی کی۔
خصوصاً عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا علمی و فقہی مسائل میں مرجع کی حیثیت رکھتی تھیں۔ بڑے بڑے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم مشکل مسائل میں ان سے رجوع کرتے تھے۔ ان کا علمی مقام اس بات کا روشن ثبوت ہے کہ اسلام نے خواتین کو علم کے میدان میں بھرپور مواقع فراہم کیے۔
ماں: پہلی درسگاہ
گھریلو ماحول کو دینی اور خوشگوار بنانے میں ماں کا کردار بنیادی ہے۔ ماں کی گود بچے کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے۔ بچپن میں جو نقوش ذہن میں ثبت ہو جاتے ہیں وہ عمر بھر باقی رہتے ہیں۔ اگر ماں تعلیم یافتہ، باکردار اور دینی شعور سے آراستہ ہو تو وہ اپنی اولاد کو صحیح اسلامی خطوط پر پروان چڑھا سکتی ہے۔
اسی لیے کہا جاتا ہے کہ ایک عورت کی تعلیم دراصل ایک پورے خاندان کی تعلیم ہے۔ اگر ماں توحید و سنت سے آگاہ ہو، اسلامی اقدار سے واقف ہو اور اخلاقی تربیت پر توجہ دے تو اس کی اولاد بھی صالح اور باکردار ہوگی۔
عصرِ حاضر کے چیلنجز اور تعلیمِ نسواں کی ضرورت
آج کے دور میں الحاد، بے دینی اور اخلاقی بے راہ روی کے فتنوں نے معاشرے کو گھیر رکھا ہے۔ ایسے ماحول میں دینی تعلیم و تربیت کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ جب بچیاں اسلامی تعلیمات سے ناواقف ہوں اور دینی شعور سے محروم ہوں تو وہ مختلف فتنوں اور دھوکوں کا آسان شکار بن سکتی ہیں۔
لہٰذا ضروری ہے کہ والدین اپنی بیٹیوں کی دینی و اخلاقی تربیت پر خصوصی توجہ دیں، انہیں عصری اور دینی دونوں علوم سے آراستہ کریں اور ان کے اندر اسلامی شعور اور خود اعتمادی پیدا کریں۔
اسلام نے علم کو انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کی بنیاد قرار دیا ہے۔ مرد و عورت دونوں کے لیے علم کا حصول ضروری ہے۔ عورت کی تعلیم محض ایک فرد کی تعلیم نہیں بلکہ ایک نسل اور ایک معاشرے کی اصلاح کی ضمانت ہے۔
آج کے پرآشوب دور میں تعلیمِ نسواں کی اہمیت دوچند ہو چکی ہے۔ اگر ہم ایک صالح، باکردار اور متوازن معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی بچیوں کی تعلیم و تربیت کا خصوصی اہتمام کرنا ہوگا۔
