مفتی محمد آصف اقبال قاسمی

ہدایت کاعظیم خزانہ : آسمانی کتابیں

 

ہدایت کاعظیم خزانہ آسمانی کتابیں

تحریر: مفتی محمد آصف اقبال قاسمی 

کتابوں پرایمان

توحیدورسالت کے اقراراورملائکہ پر ایمان لانے کے ساتھ ساتھ اللہ کی طرف سے نازل کردہ تمام کتابوں پر ایمان لانا بھی بنیادی عقائد میں سے ہے اس لئے ایک مومن کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے نازل شدہ تمام کتابوں پراجمالی طورپرایمان لائے اور اس کی تصدیق کرے کہ اللہ نے جتنی کتابیں نازل فرمائیں سب برحق ہیں اور سچائی پرمبنی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کتابوں کوانسانیت کی بھلائی اور ان کی رشدو ہدایت کے لئے نازل فرمایا ان میں اللہ کی مرضیات اور اس کے احکام درج تھے جن پرعمل کرکے انسانیت فلاح و کامیابی سے ہمکنار ہوسکتی تھی۔ ان کتابوں میں عبادت کے طریقے بتائے گئے تھے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے لِکُلٍ جَعَلْنَا مِنْکُمْ شِرْعَۃً وَّمِنْھَاجًا۔ تم میں سے ہر ایک کے لئے ہم نے الگ شریعت اور طریقہ مقررکیاہے۔ قرآن کریم میں گذشہ تین کتابوں کاتذکرہ نام کے ساتھ موجود ہے۔ اس کے علاوہ صحائف اورزُبر کا بھی تذکرہ ہے مجموعی طور پر یہ ایمان رکھناہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیامیں جتنی بھی کتابیں نازل فرمائیں وہ سب کی سب برحق ہیں اور قرآن اللہ کی آخری کتاب ہے جوحضرت محمدؐ پرنازل ہوا،پوری دنیاکے لئے ہدایت کاسامان ہے او ر اس میں تغیرو تبدل کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بارباراپنی کتابوں پرایمان لانے کی تلقین فرمائی ہے سورہ نساء میں ارشاد ربانی ہے:

یٰٓأَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اٰمِنُوْا بِاللّٰہِ وَ رَسُوْلِہٖ وَ الْکِتٰبِ الَّذِیْ نَزَّلَ عَلٰی رَسُوْلِہٖ وَ الْکِتٰبِ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ مِنْ  قَبْلُ وَ مَنْ یَّکْفُرْ بِاللّٰہِ وَ مَلٰٓءِکَتِہٖ وَ کُتُبِہٖ  وَ رُسُلِہٖ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا بَعِیْدًا۔ (36 ۔نساء)

ترجمہ:        اے لوگو! جو ایمان لائے ہو! ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر اور اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسول پر نازل کی اور اس کتاب پر جو اس نے اس سے پہلے نازل کی اور جو شخص اللہ کے ساتھ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں اور یوم آخرت (کے ساتھ) کفر کرے تو یقینا وہ گمراہ ہوا، بہت دور گمراہ ہونا۔

اللہ تعالی نے سورہ بقرہ کی ابتدائی آیات میں متقین کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے وَالَّذِیْنَ یُوْمِنُوْنَ بِمَااُنْزِلَ اِلَیْکَ وَمَا اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِک(َ اورجوایمان لا تے ہیں ا س پرجوآپ پر نازل کیا گیا اور اس پربھی جوآپ سے پہلے نبیوں پرنازل کیاگیا)۔ نیز احادیث میں بھی اللہ کے رسول ﷺ نے ایمان باللہ،ایمان بالرسل اورایمان بالملائکہ کے ساتھ ایمان بالکتب کی بار بار تاکید فرمائی ہے۔

پچھلی کتابوں کاذکر

اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسانیت کی بھلائی اور ہدایت کے لئے دو سلسلے جاری فرمائے ایک تو انبیاء ورسل کاسلسلہ جن کاتعلق براہ راست اللہ سے تھا اوراللہ تعالی کی طرف سے کبھی توبراہ راست بلاکسی واسطہ کے ہدایات ملتی تھیں اور کبھی بالواسطہ۔دوسر ا سلسلہ اللہ تعالیٰ نے کتابوں کا جاری فرمایا جن میں اللہ تعالی کے احکام ہوتے تھے جن پرانبیاء اوران کی امت عمل کرکے ہدایت کی راہ پر گامزن ہوتی تھیں۔کن کن انبیا ء کرام پر کتنی کتابیں یاصحیفے اللہ نے نازل فرمائے ان کی تفصیل اللہ نے نہیں بتائی۔ ہاں کہیں کہیں صحائف کاذکر آیا ہے لیکن ان کی تعداد کتنی تھی؟ کن انبیاء پر نازل ہوئیں اور ان کانام کیاتھا؟ اس کاعلم اللہ ہی کے پاس ہے۔قرآن کریم کے علاوہ تین کتابوں کاتذکرہ بکثرت قرآن میں آیاہے اور اللہ تعالی نے ا ن کے بارے میں کچھ تفصیلات بھی بتایاہے۔ ان میں سب سے پہلی کتاب تورات ہے جوحضرت موسیٰ ؑ علیہ السلام پرنازل ہوئی جو تختیوں پرلکھی ہوئی تھی بہت دنوں تک یہود نے اس کی حفاظت کی لیکن دھیرے دھیرے اس میں ملاوٹ ہونے لگی اور اصل کتاب ناپید ہوگئی آج بھی یہود کادعویٰ ہے کہ ان کے پاس آسمانی کتاب ہے لیکن حقیقت سے بہت دور، کیونکہ اس میں یہود نے اس قدر ملاوٹ کردی ہے کہ اصل کتاب کی پہچان مشکل ہے۔ تورات میں اللہ تعالیٰ نے رشد وہدایت کے مضامین نازل فرمائے تھے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے:

اِنَّآ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰیۃَ فِیْھَا ھُدًی وَّ نُوْرٌ یَحْکُمُ بِھَا النَّبِیُّوْنَ الَّذِیْنَ اَسْلَمُوْا لِلَّذِیْنَ ھَادُوْا وَ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوْا مِنْ کِتٰبِ اللّٰہِ وَ کَانُوْا عَلَیْہِ شُھَدَآءَ فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَ اخْشَوْنِ وَ لَا تَشْتَرُوْا بِاٰیٰتِیْ ثَمَنًا قَلِیْلًا وَ مَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓءِکَ ھُمُ الْکٰفِرُوْنَ(۴۴۔ مائدہ)

ترجمہ:        بے شک ہم نے تورات اتاری، جس میں ہدایت اور روشنی تھی، اس کے مطابق فیصلہ کرتے تھے انبیاء جو فرماں بردار تھے، ان لوگوں کے لیے جو یہودی بنے اور رب والے اور علماء، اس لیے کہ وہ اللہ کی کتاب کے محافظ بنائے گئے تھے اور وہ اس پر گواہ تھے۔ تو تم لوگوں سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو اور میری آیات کے بدلے تھوڑی قیمت نہ لو اور جو اس کے مطابق فیصلہ نہ کرے جو اللہ نے نازل کیا ہے تو وہی لوگ کافر ہیں۔

 دوسری کتاب زبور ہے جوحضرت داؤود علیہ السلام پرنازل کی گئی لیکن وہ کتاب اب اس دنیا میں موجود نہیں ہے۔قرآن کریم میں اس کتاب کا کا تذکرہ نومرتبہ آیا ہے سورۂ  نساء میں ہے وَ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًا(١٦٣ )کہ ہم نے داؤد علیہ السلام کوزبورعطاکی۔سورۂ بنی اسرائیل میں ہے وَ رَبُّکَ اَعْلَمُ بِمَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِیّٖنَ عَلٰی بَعْضٍ وَّ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًا(۵۵)  اور جو آسمانوں اور زمین میں ہیں تمہارا پروردگار ان سے خوب واقف ہے اور ہم نے بعض پیغمبروں کو بعض پر فضیلت بخشی اور داؤدؑ کو زبور عطا کی۔ سورۂ انبیاء میں ہے وَ لَقَدْ کَتَبْنَا فِی الزَّبُوْرِ مِنْ بَعْدِ الذِّکْرِ اَنَّ الْاَرْضَ یَرِثُھَا عِبَادِیَ الصّٰلِحُوْنَ(١٠٥  )  اور ہم نے نصیحت کے بعد زبور میں لکھ دیا تھا کہ میرے نیکوکار بندے ملک کے وارث ہوں گے۔اس کے علاوہ اور بھی متعدد مقامات پر اس کتاب کا ذکر قرآن کریم میں آیا ہے۔ رشد و ہدایت کی اس کتاب کو بھی داؤد علیہ السلام کی قوم نے ضائع کردیا۔

 تیسری کتاب انجیل ہے جوحضرت عیسٰی علیہ السلام پر نازل کی گئی جوآج بھی موجود  ہے لیکن اس کتاب میں بھی اس قدر ملاوٹ ہے کہ اصل کتاب کھوگئی آج تک اس کتاب میں ترمیم و اضافہ کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ کتاب سراسر ہدایت ونصیحت بن کرآئی تھی لیکن عیسائیوں نے اس کی قدر نہیں کی۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَ قَفَّیْنَا عَلٰٓی اٰثَارِھِمْ بِعِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ مِنَ التَّوْرٰیۃِ وَ اٰتَیْنٰہُ الْاَنْجِیْلَ فِیْہِ ھُدًی وَّ نُوْرٌ وَّ مُصَدِّقًا لِّمَا  بَیْنَ یَدَیْہِ مِنَ التَّوْرٰیۃِ وَ ھُدًی وَّ مَوْعِظَۃً لِّلْمُتَّقِیْنَ (٤٦ )وَلْیَحْکُمْ اَھْلُ الْاِنْجِیْلِ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فِیْہِ وَ مَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓءِکَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ(٤٧ ) مائدہ۔

ترجمہ:        اور ہم نے ان کے پیچھے ان کے قدموں کے نشانوں پر عیسیٰ ابن مریم کو بھیجا، جو اس سے پہلے تورات کی تصدیق کرنے والا تھا اور ہم نے اسے انجیل دی جس میں ہدایت اور روشنی تھی اور اس کی تصدیق کرنے والی جو اس سے پہلے تورات تھی اور متقی لوگوں کے لیے ہدایت اور نصیحت تھی۔اور لازم ہے کہ انجیل والے اس کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ نے اس میں نازل کیا ہے اور جو اس کے مطابق فیصلہ نہ کرے جو اللہ نے نازل کیا ہے تو وہی لوگ نافرمان ہیں۔

ان کتابوں کے علاوہ قرآن کریم میں صحیفوں کا تذکرہ بھی آ یا ہے جن میں سے کچھ حضرت ابراھیم علیہ السلام پر اور کچھ موسیٰ علیہ السلام پرنازل کئے گئے جن کا ذکر اس طرح ہے:

اَمْ لَمْ یُنَبَّاْ بِمَا فِیْ صُحُفِ مُوْسٰی (٣٦ )وَاِِبْرٰھِیْمَ الَّذِیْ وَفَّی (٣٧ ۔ نجم)

ترجمہ:        یا اسے اس بات کی خبر نہیں دی گئی جو موسیٰ کے صحیفوں میں ہے۔اور ابراہیم کے (صحیفوں میں) جس نے (عہد) پورا کیا۔

ان کے علاوہ دیگر انبیائے کرام پر بھی صحیفے نازل کئے گئے لیکن قرآن کریم نے ان کے ناموں کی وضاحت نہیں کی ہے ارشاد ہے:وَاِِنَّہٗ لَفِیْ زُبُرِ الْاَوَّلِیْنَ (١٩٦ ۔شعرا)اور یقینا یہ پہلے لوگوں کی کتابوں میں ہے۔وَ قَالُوا لَو لَا یَاتِینَا بِاٰیَۃٍ مِّن رَّبِّہ اَوَلَم تَاتِھِم بَیِّنَۃُ مَا فِی الصُّحُفِ الاُولٰی(طٰہٰ١٣٣ ) اور انھوں نے کہا یہ ہمارے پاس اپنے رب سے کوئی نشانی کیوں نہیں لاتا اور کیا ان کے پاس وہ واضح دلیل نہیں آئی جو پہلی کتابوں میں ہے۔

کتب سابقہ کے بارے میں ھدایت

سابقہ کتابوں کے بارے میں نبی کریم ﷺ کی تعلیم یہ ہے کہ اس میں مذکور کسی بات کے بارے میں نہ ہم کوئی تصدیق کریں اور نہ تکذیب کریں بلکہ مجموعی طورپرایمان لائیں کہ اللہ کی طرف سے نازل کردہ تمام کتابیں برحق ہیں۔

    عن ابی ھریرۃ رضی اللہ تعالی عنہ قَالَ:” كَانَ أَهْلُ الْكِتَابِ يَقْرَءُونَ التَّوْرَاةَ بِالْعِبْرَانِيَّةِ وَيُفَسِّرُونَهَا بِالْعَرَبِيَّةِ لِأَهْلِ الْإِسْلَامِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تُصَدِّقُوا أَهْلَ الْكِتَابِ وَلَا تُكَذِّبُوهُمْ وَقُولُوا: آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ. (صحیح بخاری۔ کتاب الاعتصاب بالکتٰب والسنۃ، باب قول النبی ﷺ لاتسئلو اھل الکتاب من شیء حدیث نمبر٧٣٦٢  )

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اہل کتاب توریت عبرانی زبان میں پڑھتے تھے اور اس کی تفسیر مسلمانوں کے لیے عربی میں کرتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اہل کتاب کی نہ تصدیق کرو اور نہ ان کی تکذیب کرو اور کہو کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس پر جو ہم پر نازل ہوا اور جو ہم سے پہلے تم پر نازل ہوا۔

قرآن کریم

قرآن کریم اللہ کی آخری کتاب ہے جواللہ نے اپنے نبی حضرت محمد مصطفی ﷺ پر نازل فرمائی۔قرآن کریم ازل سے لوح محفوظ میں موجود ہے، جیساکہ اللہ تعالیٰ نے خود قرآن میں فرمایا  بَلْ ھُوَ قُرْآنٌ مَّجِیْدٌ فِیْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ(بروج) (بلکہ یہ قرآن مجید ہے،لوح محفوظ میں ہے)۔ پھر لوح محفوظ سے اس کانزول آسمان دنیا بیت المعمور میں ہوا۔یہ نزول  لیلۃالقدر میں ہو ا تھا۔ پھر وہاں سے جناب نبی کریم ﷺ پرتھوڑ اتھوڑ اکرکے تئیس سالوں میں نازل ہوا۔

وقفہ وقفہ سے تھوڑا تھوڑ اکرکے تئیس سالوں میں اتارنے کی وجہ بھی اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ہی بیان کردیا ہے۔ ارشاد ہے:وَ قُرْاٰنًا فَرَقْنٰہُ لِتَقْرَاَہٗ عَلَی النَّاسِ عَلٰی مُکْثٍ وَّ نَزَّلْنٰہُ تَنْزِیْلًا(۶۰۱۔بنی اسرائیل)اور قرآن، ہم نے اس کو جدا جدا کرکے (نازل) کیا، تاکہ تو اسے لوگوں پر ٹھہر ٹھہر کر پڑھے اور ہم نے اسے نازل کیا، (تھوڑا تھوڑا) نازل کرنا۔  نیز کفار کے اعتراض کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے ارشادفرمایا: وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَوْلاَ نُزِّلَ عَلَیْہِ الْقُرْاٰنُ جُمْلَۃً وَّاحِدَۃً کَذٰلِکَ لِنُثَبِّتَ بِہٖ فُؤَادَکَ وَرَتَّلْنَاہُ تَرْتِیلًا (۲۳۔سورہ فرقان) اور ان لوگوں نے کہا جنھوں نے کفر کیا، یہ قرآن اس پر ایک ہی بار کیوں نہ نازل کر دیا گیا؟ اسی طرح (ہم نے اتارا) تاکہ ہم اس کے ساتھ تیرے دل کو مضبوط کریں اور ہم نے اسے ٹھہر ٹھہر کر پڑھا، خوب ٹھہر کر پڑھنا۔تدریجاقرآن کریم کو نازل کرنے کی وجہ ایک تویہ ہے قرآن کا ایک ایک لفظ آپ ﷺ کے دل میں رچ بس جائے۔دوسرے یہ کہ مومنین کے لئے عمل کرنا آسان ہوجائے اس لئے جیسے جیسے واقعات پیش آتے رہے قرآنی آیات کا نزول ہوتارہا۔

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے رشد وہدایت اور انذار وتبشیر کی آیا ت نازل فرمائے تاکہ دنیا ہدایت کی روشنی حاصل کرسکے۔ارشاد ہے:

وَاِِنَّہٗ لَتَنْزِیْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ (۲۹۱)نَزَلَ بِہِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُ (۳۹۱) عَلٰی قَلْبِکَ لِتَکُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ (۴۹۱)بِلِسَانٍ عَرَبِیٍّ مُّبِیْنٍ (۵۹۱) وَاِِنَّہٗ لَفِیْ زُبُرِ الْاَوَّلِیْنَ (۶۹۱۔شعراء)

ترجمہ:        اوربے شک یہ رب العالمین کانازل کردہ ہے۔ اس کو روح الامین نے آپﷺ کے قلب پر نازل کیا ہے تاکہ آپﷺ ڈرانے والوں میں سے ہوں۔واضح عربی زبان میں اور بلاشبہ اس کا ذکر پہلی کتابوں میں بھی ہے۔

قرآں کریم کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ تبارک وتعالیٰ نے خود ہی لے لیاہے اس لئے یہ کتاب آج تک اپنی صحیح حالت میں موجود ہے اور قیامت تک ا ٓنے والی نسلوں کے لئے رشدو ہدایت کا سامان ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے:اِنَّانَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَوَاِنَّا لَہٗ لَحَافِظُوْنَ(حجر۔۹) کہ ہم نے ہی اس قرآن کو نازل کیا اورہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں اور ظاہر ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ جب کسی چیز کی حفاظت کا ذمہ خود اٹھالیں تواب اس کے ضائع ہونے کا سوال ہی پید انہیں ہوتا۔ اس لئے قرآن جس طرح نازل ہو اآج بھی اسی طرح محفوظ ہے اور قیامت تک محفوظ رہے گا۔

جس طرح قرآن کریم کے الفاظ من جانب اللہ نازل کردہ ہیں اسی طرح اس کے معانی بھی من جانب اللہ نبی کریم ﷺ کے سینۂ اقدس پرکھول دیئے گئے اس لئے آپؐ نے حق جل شانہ کے منشا کے مطابق قرآن کی تفسیر اپنے اصحاب کرام کو بتائی اور صحابہ کرام نے ان تفاسیر کو اپنے سینوں میں محفوظ کرکے آگے منتقل کردیا اس لئے اس کا تفسیر ی حصہ بھی سینہ بسینہ منتقل ہوتارہا اورآج کے دور میں کتابوں کی شکل میں موجود ہے اس لئے قرآن کریم کے ترجمے اور اس کی تفسیر میں انسانی ذہن سے کسی بات کوداخل کرنا معنوی تحریف ہے۔ اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے:

لاَ تُحَرِّکْ بِہٖ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِہٖ (۶۱)اِِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَہٗ وَقُرْاٰنَہٗ (۷۱) فَاِِذَا قَرَاْنٰ ہُ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَہٗ (۸۱)ثُمَّ اِِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَہٗ (۹۱۔مزمل )

 ترجمہ:        آپ(ﷺ) اس کے ساتھ اپنی زبان کو حرکت نہ دیں، تاکہ اسے جلدی حاصل کرلیں۔  بلاشبہ اس کوجمع کرنا اور (آپ کا) اس کو پڑھنا ہمارے ذمے ہے۔ تو جب ہم اسے پڑھیں تو آپ(ﷺ) اس کے پڑھنے کی پیروی کیجئے۔ پھر بلاشبہ اسے واضح کرنا ہمارے ذمے ہے۔

یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کویہ تعلیم دیا ہے کہ جب آپ ؐ پر وحی نازل ہوتی ہے اورقرآن پڑھاجاتاہے تو اس خوف سے کہ میں بھول نہ جاؤں،آپؐ پڑھنے میں جلدی نہ کیجئے یہ توہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس قرآن کو آپ کے سینے میں اتار بھی دیں اور اس کے مطالب بھی بتادیں،لہذا اللہ تعالیٰ نے یاد کرانے،تلاوت کرانے اور تفسیرکرانے کی ذمہ داری خود ہی لے لی۔ ایک جگہ اور اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے:فَتَعٰلَی اللّٰہُ المَلِکُ الحَقّ  وَ لَا تَعجَل بِالقُراٰنِ مِن قَبلِ اَن یُّقضٰٓی اِلَیکَ وَحیُہٗ وَ قُل رَّبِّ  زِدنِی عِلمًا(طٰہٰ۔۴۱۱) ”بہت بلندہے وہ اللہ جوحقیقی بادشاہ ہے۔ جب تک آپ(ﷺ) کے پاس وحی پوری نہ آئے توآپ قرآن پڑھنے میں جلدی نہ کیا کریں اور آپ ؐ یہ کہیں کہ میرے رب میرے علم کو زیادہ کر۔“

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کلام الٰہی لاَ تُحَرِّکْ بِہٖ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِہ الخ کی تفسیر کے سلسلہ میں بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نزول قرآن کے وقت بہت سختی محسوس فرمایا کرتے تھے اور اس کی (علامتوں) میں سے ایک یہ تھی کہ یاد کرنے کے لیے آپ اپنے ہونٹوں کو ہلاتے تھے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا میں اپنے ہونٹ ہلاتا ہوں جس طرح آپ ہلاتے تھے۔ سعید کہتے ہیں میں بھی اپنے ہونٹ ہلاتا ہوں جس طرح ابن عباس رضی اللہ عنہما کو میں نے ہلاتے دیکھا۔ پھر انہوں نے اپنے ہونٹ ہلائے۔ (ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا) پھر یہ آیت اتری کہ اے محمدؐ! قرآن کو جلد جلد یاد کرنے کے لیے اپنی زبان نہ ہلاؤ۔ اس کا جمع کر دینا اور پڑھا دینا ہمارا ذمہ ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں یعنی قرآن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں جما دینا اور پڑھا دینا ہمارے ذمہ ہے۔ پھر جب ہم پڑھ چکیں تو اس پڑھے ہوئے کی اتباع کرو۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں (اس کا مطلب یہ ہے) کہ آپ اس کو خاموشی کے ساتھ سنتے رہیں۔ اس کے بعد مطلب سمجھا دینا ہمارے ذمہ ہے۔ پھر یقیناً یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ آپ اس کو پڑھیں (یعنی اس کو محفوظ کر سکیں) چنانچہ اس کے بعد جب آپ کے پاس جبرائیل علیہ السلام (وحی لے کر) آتے تو آپ (توجہ سے) سنتے۔ جب وہ چلے جاتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس (وحی) کو اسی طرح پڑھتے جس طرح جبریل علیہ السلام نے اسے پڑھا تھا۔(صحیح بخاری کتاب بدء الوحی،بابٌ)

نزول قرآن اور اس کی جمع وترتیب

نزول کے اعتبار سے سورہ اقرأ کی پہلی پانچ آیات قرآن کریم کی سب سے پہلی آیات ہیں۔ا س وقت آپؐ کی عمر چالیس سال تھی اورآپ غار حراء میں اپنے رب کی عبادت میں مصروف تھے۔قرآن کریم کانزول اسی دن سے شروع ہوااور تئیس سال تک وقفہ وقفہ سے نازل ہوتا رہا۔جب کوئی آیت یاسورت نازل ہوتی توحضور پاک ﷺ صحابہئ کرام کو لکھوادیتے اور صحابہ کرام کپڑوں، کھالوں، پتوں یادرختوں کے چھالوں پر انہیں لکھ لیاکرتے اور انہیں یاد بھی کر لیا کرتے تھے۔ چنانچہ حضور پاک ﷺ کے دور میں صحابہ کرام کی ایک بڑی جماعت حافظ قرآن تھی۔ نبی کریمؐ کی موجودگی میں کسی طرح کی پریشانی نہیں تھی۔کسی آیت میں یا قرآن کے کسی حکم میں صحابہ کرام کے درمیان کوئی اختلاف یاشک و شبہہ ہوتاتوحضورؐ سے پوچھ لیاکرتے تھے۔ لیکن جیسے جیسے زمانۂ نبوی سے بُعد ہوتاگیااورصحابہ کرام کی تعداد دن بدن کم ہوتی گئی نیز اسلام عرب سے نکل کربلاد عالم میں تیزی سے پھیلنے لگا توقرآن کریم کی آیات میں اختلافات کاامکان بڑھتا چلا گیا۔ ایساممکن ہے کہ قاری نے جوالفاظ پڑھے سامع کو وہ الفاظ یاد نہ رہے معنی ذہن میں رہ گیااور اس نے کسی موقع پرقرآن کی تلاوت کوبالمعنی اپنی طرف سے کوئی لفظ بڑھا کرکردیا۔ ایسے ہی کچھ واقعات پیش آئے توعمر فاروقؓ نے خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیقؓ کو اس طرف توجہ دلائی کہ قرآن کا ایک نسخہ مرتب کرلیاجائے۔پہلے توآپؓ نے انکار فرمایاکہ جس کام کورسول اللہ ؐ نے نہیں کیااس کومیں کیسے کرسکتاہوں۔لیکن بعدمیں جب آپؓ کواس کی اہمیت کااندازہ ہوا توآپ نے ایک نسخہ قرآن کریم کاتیار کروا کراپنے پا س رکھ لیا۔  قرآن کریم کے جمع وترتیب کا پسِ منظر اور پیشِ منظر ذیل کی حدیث میں تفصیلی طور پرموجود ہے۔

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جنگ یمامہ کے موقع پر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے انہیں بلا بھیجا، اتفاق کی بات کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی وہاں موجود تھے، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: عمر بن خطاب میرے پاس آئے ہیں کہتے ہیں کہ جنگ یمامہ میں قرآن کے بہت سے قراء (حافظوں) کی شہادت ہوئی ہے، اور میں ڈرتا ہوں کہ اگر ان تمام جگہوں میں جہاں جنگیں چل رہی ہیں قراء قرآن کا قتل بڑھتا رہا تو بہت سارا قرآن ضائع ہو سکتا ہے، اس لیے میں مناسب سمجھتا ہوں کہ آپ مکمل قرآن اکٹھا کرنے کا حکم فرمائیں۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: میں کوئی ایسی چیز کیسے کروں جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! یہ بہتر کام ہے۔ وہ مجھ سے یہ بات باربار کہتے رہے یہاں تک کہ اللہ نے مجھے بھی اس کام کے لیے شرح صدر عطا کر دیا جس کام کے لیے اللہ نے عمر کو شرح صدر عطا فرمایا تھا۔ اور میں نے بھی اس سلسلہ میں وہی بات مناسب سمجھی جو انہوں نے سمجھی۔ زید کہتے ہیں: ابوبکر رضی اللہ عنہ نے (مجھ سے) کہا: تم جوان ہو، عقلمند ہو، ہم تمہیں (کسی معاملے میں بھی) متہم نہیں کرتے اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی وحی لکھتے بھی تھے، تو ایسا کرو کہ پورا قرآن تلاش کر کے لکھ ڈالو، (یکجا کر دو) زید کہتے ہیں: قسم اللہ کی! اگر مجھ سے پہاڑوں میں سے کسی پہاڑ کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کے لیے کہتے تو یہ کام مجھے اس کام سے زیادہ بھاری نہ لگتا، میں نے کہا: آپ لوگ کوئی ایسا کام جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا ہے کیسے کرتے ہیں؟ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! تمہارے لیے بہتر ہے اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما دونوں مجھ سے باربار یہی دہراتے رہے یہاں تک کہ اللہ نے میرے سینے کو بھی اس حق کے لیے کھول دیا جس کے لیے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے سینے کو اس نے کھولا تھا، تو میں نے پورے قرآن کی تلاش و جستجو شروع کر دی، میں پرزوں، کھجور کے پتوں، نرم پتھروں اور لوگوں کے سینوں سے لے کر نقل کر کر کے یکجا کرنے لگا، تو سورہ توبہ کی آخری آیات لَقَدْ جَآءَ کُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْہِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْکُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُ وْفٌ رَّحِیْمٌ (۸۲۱)فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِیَ اللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَ ھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ(۹۲۱) ”تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک رسول آیا ہے، اس پر تمہاری تکلیف شاق گزرتی ہے، وہ تمہاری بھلائی کا حریص ہے اور ایمان والوں کے حال پر نہایت درجہ شفیق اور مہربان ہے۔ پھر بھی اگر وہ منہ پھیر لیں توکہہ دیجئے کہ اللہ مجھ کو کافی ہے اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اسی پر میں نے بھروسہ کیا ہے اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے“۔ مجھے خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس ملیں۔   (سنن الترمذی۔کتاب التفسیر عن رسول اللہ ﷺ۔ باب ومن سورۃ التوبہ)

قرآن مجید کا مرتب ومدون شدہ نسخہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی زندگی میں ان کے پا س محفوظ تھا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کووفات دے دی۔پھرحضرت عمرؓ کی زندگی میں ان کے پاس محفوظ تھا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو وفات دے دی۔پھران کے بعد ام المؤمنین سیدہ حفصہ بنت عمرؓ کے پاس تھا۔جب حضرت عثمان غنی ؓ کا زمانہ آیا تو آپ ؓ نے حضرت حفصہؓ سے وہ نسخہ مانگ کر اس کے بہت سے نقل کروائے اور سلطنت اسلامی میں جگہ جگہ بھجوادیا تاکہ جن لوگوں کے پاس قرآن کا کچھ حصہ کسی بھی راستے سے پہونچا ہو اس سے ملاکر تصحیح کرلیں۔

 حضرت حذیفہ ؓ حضرت عثمان بن عفانؓ کے پاس آئے اور وہ آرمینیا اورآذر بائیجان کی فتح میں اہل عراق کے ساتھ مل کر اہل شام کے خلاف جنگ کرتے تھے حضرت حذیفہؓ کوقرأۃ میں ان کے اختلاف نے خوف زدہ کردیا تھا لہذ ا انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے کہاکہ اے امیرالمومنین آپ اس امت کوبچالیجئے اس سے پہلے کہ وہ کتاب اللہ میں اختلاف کریں جیسے یہود ونصاریٰ نے اختلاف کرلیاتھا۔چنانچہ حضرت عثمان ؓ نے ام المومنین سیدہ حفصہ ؓ کے پا س نمائندہ بھیجا (اورگذارش کی کہ) آپ مصحف (صدیقی وفاروقی والا قرآنی نسخہ)میرے پاس بھیج دیں یایہ کہاکہ صحیفے بھیج دیں۔ ہم انہیں مصاحف میں لکھ لیں گے پھروہ آپ کے پاس واپس لوٹادیں گے۔چنانچہ ام المومنین حضرت حفصہؓ نے وہ مصحف حضرت عثمانؓ کے پاس بھیج دیں اورحضرت عثمان ؓ نے زید بن ثابت ؓ، عبد اللہؓ بن زبیر اورسعیدؓ بن عاص کو بلایا اور انہیں حکم دیاکہ صحیفوں کو مصاحف میں نقل کریں اور ان سے کہا کہ جس چیز میں تم لوگ اور زیدؓابن ثابت میں اختلاف کروتو اس کو قریش کی لغت کے ساتھ لکھ لوسوائے اس کے کچھ نہیں کہ قرآن انہیں کی زبان کے ساتھ نازل ہواہے لہذا تمام صحیفے مصاحف میں لکھ لیے گئے  پھرحضرت عثمانؓ نے (مملکت اسلامی) کے ہرکونے میں ایک ایک مصحف بھیج دیا اورباقی ماندہ مصحف یاصحیفوں اورقرآنی اوراق کے لئے یہ حکم دیا کہ یاتو ان کومٹادیاجائے یاجلادیاجائے۔(شعب الایمان بیہقی۔سنن الترمذی۔کتاب التفسیر عن رسول اللہ ﷺ۔ باب ومن سورۃ التوبہ)

اس کے بعد کئی ادوار ایسے آئے کہ قرآن کو مٹانے کی کوششیں کی گئیں لیکن اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں اپنے کتاب کی حفاظت فرمائی اور قیامت تک ایسے ہی حفاظت کرتارہے گا۔جو لوگ قرآ ن کو اپنا منشور اور اپنا رہبرو رہنما تسلیم کریں گے قرآن کریم کے ساتھ ساتھ ان کی بھی حفاظت ہوتی رہے گی۔ اس لئے مسلمانوں کوچاہئے کہ وہ قرآن اور اس کی تعلیمات کو مضبوطی سے تھامے رہیں اور اسی کی ہدایات کے مطابق اپنی زندگی گذاریں۔

One thought on “ہدایت کاعظیم خزانہ : آسمانی کتابیں”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Index