طہارت کے مسائل
وضو کے فرائض
تحریر: مفتی محمد آصف اقبال قاسمی
طہارت کی اہمیت
طہارت دینِ اسلام کی بنیاد اور عبادت کا پہلا زینہ ہے۔ شریعت نے جسم، لباس اور جگہ کی پاکیزگی کو ایمان کا حصہ قرار دیا ہے، کیونکہ عبادت اسی وقت مقبول ہوتی ہے جب انسان ظاہری اور باطنی طور پر پاک ہو۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ پاکیزہ لوگوں کو پسند کرتا ہے، اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ “پاکیزگی آدھا ایمان ہے” (صحیح مسلم)۔
طہارت انسان کے دل و دماغ پر بھی اثر انداز ہوتی ہے، اسے نفاست، نظم اور روحانی سکون عطا کرتی ہے۔ نماز جیسے عظیم فریضے کی ادائیگی سے پہلے وضو اور غسل جیسے اعمال اسی طہارت کا اہم حصہ ہیں۔ اس طرح طہارت نہ صرف شرعی ذمہ داری ہے بلکہ اخلاقی اور روحانی صفائی کا ذریعہ بھی ہے، جو بندے کو اللہ کی بارگاہ میں مقبول بناتی ہے۔
وضو کے بغیر نماز نہیں
وضو اسلام کی بنیادی عبادتوں میں سے ایک اہم عبادت ہے جس کی فرضیت قرآن و حدیث سے ثابت ہے۔ نبی کریم ﷺ نے بھی وضو کو نماز کی شرط قرار دیتے ہوئے فرمایا:
لَا تُقْبَلُ صَلَاةٌ بِغَيْرِ طُهُورٍ(صحيح مسلم۔كِتَاب الطَّهَارَةِ،حدیث نمبر: 535)
”نماز وضو کے بغیر قبول نہیں ہوتی“ ۔

اس طرح صاف ظاہر ہے کہ نماز کی صحت کے لیے وضو فرض ہے، اور مسلمان بغیر طہارت ے نماز ادا نہیں کر سکتا۔ وضو نہ صرف عبادت کی شرط ہے بلکہ روحانی پاکیزگی اور باطنی نورانیت کا ذریعہ بھی ہے۔
وضو کے فرائض اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیا ن کردیاہےاور رسول اللہ ﷺ نے عملی طور پر اس کی تفسیر بتادیاہے۔ سورہ مائدہ میں اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے :
یٰاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِذَا قُمْتُمْ اِلَی الصَّلٰوۃِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْہَکُمْ وَ اَیْدِیَکُمْ اِلَی الْمَرَافِقِ وَ امْسَحُوْا بِرُءُوْسِکُمْ وَ اَرْجُلَکُمْ اِلَی الْکَعْبَیْنِ(مائدہ ۔6)
اے ایمان والو ! جب تم نماز کے لئے اٹھو تو اپنے منہ کو اور اپنے ہاتھوں کہنیوں سمیت دھو لو۔ اپنے سروں کو مسح کرو۔ اور اپنے پاؤں کو ٹخنوں سمیت دھو لو۔
اس آیت کریمہ سے پتہ چلتاہے کہ نماز کے لئے تین اعضا کادھونا اور ایک عضو کامسح فرض ہے۔بالترتیب وضو کے فرائض یہ چار ہیں۔
![]()
وضو کے چار فرض ہیں
(1) چہر ہ دھونا
(2) دونوں ہاتھ کہنیوں سمیت دھونا۔
(3) سر کامسح کرنا۔
(4) دونوں پاؤں ٹخنوں سمیت دھونا۔
(1) چہرہ کی حد :چہرےکی حد اوپرکی طرف پیشانی کا اوپری کنارہ جہاں سے بال شروع ہوتےہیں ۔
نیچے تھوڑی کے نیچے تک
دائیں اور بائیں ایک کان کی لو سے دوسرےکان کی لو تک
اس کے درمیان چہرہ ہے۔ اس پورے چہرے کو دھونا فرض ہے ۔ اگر اس میں بال برابر بھی کہیں سوکھا رہ جائے توفرض ادا نہیں ہوگا۔
چہرے کی ظاہری حد کیا ہے اور چہرے کسے کہتےہیں اس کی علماء مختلف تعبیریں کی ہیں سب مطلب وہی ہے جواوپر بیان کیا گیا ہے۔ امام طبری نے چہرےکی تعبیر اس طرح کی ہے:
هو ما ظهر من بشرة الإنسان من قصاص شعر رأسه , منحدرا إلى منقطع ذقنه طولا , وما بين الأذنين عرضا .(تفسیر سورہ مائدہ۔ آیت 6)
یعنی چہرہ انسان کی وہ ظاہر ہونے والی جلد ہے جو سر کے بالوں کی اگنے کی جگہ سے شروع ہو کر ٹھوڑی کے آخر تک نیچے کی طرف ہو، اور عرض (چوڑائی) میں دونوں کانوں کے درمیانی حصہ تک ہو۔
(2) دونوں ہاتھ کہنیوں سمیت دھونے کا مطلب یہ ہے کہ کہنیاں بھی دھوئیں۔اگر کہنی سے تھوڑا پہلے بھی سوکھا رہ جائےتووضو نہیں ہوگا۔کہنیوں کادھونا فرض ہےیا نہیں اس میں علماء کی طرف سے بڑی بحثیں لیکن علماء احناف نے اسی کوراجح قراردیاہےکہ کہنیاں بھی دھونا فرض ہے۔
(3) سر کامسح کرنا۔
سرکےمسح کےسلسلے میں ائمہ مجتہدین کےدرمیان تھوڑا اختلاف ہےلیکن علماءاحناف کےیہاں چوتھائی سر کامسح کرنا فرض ہے۔
دلیل قرآن کریم کو آیت کریمہ جس میں وضو کے فرائض بیان کیے گئےہیں ۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وَ امْسَحُوْا بِرُءُوْسِکُمْ۔اس میں برؤسکم میں جو حرف ب ہے وہ تبعیض کے لئے ہے۔ یعنی سر کے بعض حصہ کا مسح بھی فرضیت کوپورا کرنے کے لئے کافی ہے۔
ایک حدیث سے اس کی تائیدہوتی ہےحضرت مغیرہ بن شعبہ نے فرمایا:
أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ، فَمَسَحَ بِنَاصِيَتِهِ(صحيح مسلم۔كتاب الطهارة،حدیث نمبر: 636)
یعنی رسول اللہ ﷺ نے وضو فرمایا اپنی پیشانی کے بقدر سر کامسح کیا ۔ اگر دیکھا جائے تو پیشانی چوتھائی سر کے برابر ہوتی ہے۔اس لئے ایک چوتھائی سر کامسح کرنا فرض ہے اس کےبغیر طہارت حاصل نہیں ہوگی۔
(4) دونوں پاؤں ٹخنوں سمیت دھونےکا مطلب یہ ہے کہ پاؤں میں جوابھری ہوئی ہڈی ہوتی ہے اس کوبھی دھونا فرض ہے۔
ان چاروں فرائض کومحض ایک بار ادا کرنا فرض ہے۔ دھونے والے اعضا ء میں سے کسی ایک میں بھی کوئی جگہ بال کے برابر بھی اگر دھونے سے رہ جائے تو وضو نہیں ہوگا۔تعلیم کی غرض سے رسول اللہ ﷺ نے ایک ایک مرتبہ بھی اعضائے وضو کو دھوکر دکھایاہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ایک روایت بیان کیا ہے:
تَوَضَّأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّةً مَرَّةً ۔(صحيح البخاري۔كتاب الوضوء۔حدیث نمبر: 157)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو میں ہر عضو کو ایک ایک مرتبہ دھویا۔
یہ وہ وضو ہے جس کے بغیر نماز نہیں ہوسکتی۔

