یوم جمہوریہ ہند: حب الوطنی اور آئینی اقدار کا جشن

تحریر مفتی محمد آصف اقبال قاسمی
یوم جمہوریہ کا تعارف
ہندوستان بر اعظم ایشا کاایک عظیم ملک ہے ، جسے جمہوریۂ ہند بھی کہا جاتا ہے،یہ دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک ہے۔ طویل جد وجہد آزادی کے بعد یہ ملک 15 اگست 1947 کو انگریزی سامراج سے آزاد ہوا ۔ آزادی کے بعد اس ملک کو ایک ایسے قانون کی ضرورت تھی جس میں ہر مذہب کے ماننے والوں کو مکمل آزادی اور ان کو تہذیبی ضمانت حاصل ہو۔ اس مقصد کے لئے ایک آئین ساز اسمبلی بنائی گئی جس میں شرو ع میں 389 اراکین شامل تھے ۔ تقسیم پاکستان کے بعد یہ تعداد299 رہ گئی ۔ڈاکٹر راجندر پرشاد کو آئین ساز اسمبلی کا صدر بنایا گیاجو بعد میں چل کر ہندوستان کے پہلےصدر بنے ۔ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کو ڈرافٹنگ کمیٹی کا صدر اور چیئر مین بنایا گیاجنہیں آئین ہند کا معمار کہا جاتاہے۔آئین ساز اسمبلی میں مختلف صوبوں، ریاستوں، مذاہب، طبقات اور زبانوں کی نمائندگی تھی۔جس میں مسلم ممبران کی تعداد 35 تھی ۔پہلی نشست 9 دسمبر 1946 کو ہوئی، اور اسمبلی نے تقریباً 3 سال میں آئین تیار کیا۔
آئین ہند تیار ہونے کےبعد ہندوستان 26 جنوری 1950 کو مکمل طور پر خودمختار، جمہوری اور آئینی ریاست کے طور پر قائم ہوا، جب آئینِ ہند نافذ کیا گیا۔ ہندوستان کی جمہوریت کا بنیادی مقصد عوام کو اقتدار کا اصل سرچشمہ بنانا اور ایک منصفانہ، مساوی اور آزاد معاشرہ قائم کرنا ہے۔ہندوستان میں پارلیمانی جمہوریت کا نظام رائج ہے، جہاں صدر ریاست کے سربراہ ہوتے ہیں اور وزیرِ اعظم حکومت کے سربراہ کے طور پر کام کرتے ہیں۔ ملک کی مضبوط بنیاد آئینِ ہند ہے، جو بنیادی حقوق، شہری ذمہ داریوں اور انصاف، آزادی، مساوات اور اخوت جیسے اصولوں کی ضمانت دیتا ہے۔جمہوری ہندوستان مختلف زبانوں، مذاہب، ثقافتوں اور روایات کا گہوارہ ہے، مگر اس کے باوجود یہاں تنوع میں اتحاد پایا جاتا ہے۔ عوام کی رائے، ووٹ کا حق اور جمہوری اداروں کی مضبوطی ملک کی ترقی اور خوشحالی کی ضمانت ہیں۔آزادی کے بعد سے، ہندوستان نے جمہوریت کی راہوں میں کئی اہم سنگ میل عبور کیے ہیں اور دنیا کے نقشے پر ایک مضبوط، خوشحال اور متحد ملک کے طور پر اپنی پہچان بنائی ہے۔ یومِ جمہوریہ، ہر سال 26 جنوری کو، اس عظیم سفر اور آئین کی اہمیت کو یاد کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
یوم جمہوریہ ہر سال 26 جنوری کو منایا جاتا ہے26 جنوری 1950 کو آئینِ ہند نافذ ہوااورہندوستان ایک خودمختار، جمہوری ملک بنا۔
آئینِ ہند کی خصوصیات
آئینِ ہند دنیا کا سب سے طویل اور سب سے بڑا تحریری آئین ہے۔اس میں 395 آرٹیکلز اور کئی شیڈولز شامل ہیں۔یہ آئین جمہوری اصولوں، وفاقی ڈھانچے اور شہری حقوق کا جامع دستاویز ہے۔ہندوستان ایک جمہوری اور خودمختار ملک ہے، یعنی حکومت کا اصل اختیار عوام کے پاس ہے۔عوام ووٹ کے ذریعے اپنے نمائندے منتخب کرتے ہیں۔ملک خودمختار ہے، کسی بیرونی طاقت کے زیرِ اثر نہیں۔ہندوستان وفاقی ملک ہے، جس میں مرکزی حکومت اور ریاستی حکومتیں اپنی اپنی حدود میں اختیارات رکھتی ہیں۔آئین میں مرکزی اور ریاستی اختیارات کی تفصیل موجود ہے۔آئین ہندشہریوں کو مساوات، آزادی اور انصاف کے حقوق دیتا ہے۔مساوات کا حق ،تعلیم و روزگار کے مواقع،آزادی اظہار رائے،مذہبی آزادی یہ وہ ممتاز خصوصیات ہیں جو آئین ہند ہر ہندوستان شہری کو فراہم کرتاہے ۔شہریوں پر آئینی ذمہ داریاں بھی عائد کی گئی ہیں۔جیسے: قانون کی پاسداری، قومی ترقی میں کردار، ملک کی حفاظت۔آئین میں ترمیم کی گنجائش موجود ہے تاکہ وقت کے مطابق ضروری تبدیلیاں کی جا سکیں۔مضبوط اور مستحکم رہنے کے باوجود آئین جدید دور کی ضروریات کے مطابق ڈھالا جا سکتا ہے۔ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے، یعنی کسی مذہب کو سرکاری طور پر ترجیح نہیں دی جاتی۔تمام مذاہب کے لوگ آزادانہ طور پر اپنے عقائد اور عبادات ادا کر سکتے ہیں۔آئین ہند پارلیمنٹ، صدر، عدالتیں، اور دیگر ادارے قائم کرنے کی ہدایت دیتا ہے۔اس کے ذریعے قانون کی حکمرانی اور توازن قائم ہوتا ہے۔آئین ہند میں غریب، خواتین، بچوں اور اقلیتوں کے تحفظ کی ضمانت موجودہے۔یہ سماجی اور اقتصادی انصاف فراہم کرنے کا ذریعہ ہے۔اس آئین کا مقصد ایک مضبوط، خوشحال اور متحد ہندوستان کی بنیاد رکھنا ہے۔انصاف، آزادی، مساوات اور اخوت کو فروغ دینا آئین کا بنیادی فلسفہ ہے۔
حقیقت یہ ہےکہ آئین ہند اس ملک میں رہنے والے ہرشہری کی ضروت ، حفاظت اور تہذیبی ثقافت کا آئینہ دار ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ کچھ لوگ اس آئین سے چڑتے ہیں اور وقتا فوقتاموجودہ آئین ختم کردینے کی آواز اٹھاتے رہتے ہیں ۔وہ چاہتے ہیں کہ ہندوستان کی تہذیبی اور مذہبی تنوع کو ختم کرکے یک رنگ کردیا جائے ۔ لیکن ایسا کسی بھی حال میں ممکن نہیں ہے۔ جس طرح آئین کی بحالی قانون نافذ کرنے والے اداروں اور حکومتوں کی ذمہ داری ہے اسی طرح ہندوستان کے ہر شہری کی ذمہ داری ہے ۔ ہر شخص اپنے اپنے دائرہ اختیار میں قانون کے نفاذ کی کوشش کرے اور اس کے وقار کو مجروح ہونے سے بچائے۔
ملک کا مستقبل نوجوانوں سے وابستہ
کسی بھی ملک و قوم کے مستقبل کی ضامن اس کی نوجوان نسل ہوتی ہے۔قوم وملت کی ساری امیدیں اسی سے وابستہ ہوتی ہیں اور تمام تر توانائی اسی پر صرف بھی کی جاتی ہے اس لئے نوجوان نسل پر آئین ہند کی حفاظت اور اس کے نفاذ کی کوشش سب سے زیادہ لازم ہے ۔نوجوان اس ملک کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں۔ اگر وہ اپنی تعلیم، محنت، جذبہ اور توانائی کو ملک کی خدمت میں لگائیں تو ہندوستان مضبوط، خوشحال اور ترقی یافتہ ملک بن سکتا ہے۔ اسی لیے ہر شہری، اور خاص طور پر نوجوانوں پر یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ملک کی ترقی اور آئینی اقدار کی پاسداری میں بھرپور کردار ادا کریں۔جوش و جذبے سے کام کریں، علم اور محنت سے ملک کو روشن مستقبل کی طرف لے جائیں کیونکہ ہندوستان کا مستقبل نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے۔
ووٹ کا صحیح استعمال
چونکہ جمہوری ممالک میں عوام ہی اصل حکمراں ہوتی ہے اس لئے عوام کو ووٹ کا ایک مضبوط اختیار حاصل ہوتا ہے جس کے ذریعہ وہ اپنا نمائندہ کسی ایسے شخص کو بناتی جو صحیح معنوں میں نظم ونسق کو بحال کرسکے ۔اس لئے ووٹ کا استعمال نہایت سمجھداری اور سوجھ بوجھ کے ساتھ کرنے کی ضرورت ہے ایسے اشخاص اور پارٹیوں کو ووٹ دینا چاہئے جوملک کی تعمیر و ترقی کے لئے کوشاں ہوں نہ یہ کہ صرف اپنی جھولی بھرنے کے لئے سیاسی میدا ن میں آئے ہوں۔مذہبی اور علاقائی نیز ذاتی ونسلی امتیازات کو اہمیت نہ دے کر ایسے افراد کو اپنا ووٹ دینا چاہئے جوپوری قوم وملت کے مفاد اور ملک کی تعمیر و ترقی میں بنیادی کردار اداکرنے کی صلاحیت رکھتاہو۔
ملک سے محبت
ملک کو خوش حال اور ترقی یافتہ بنانے کے لئے ضروری ہے کہ ہر شہری کے دل میں اپنے وطن، اپنے ملک اور اپنے آئین سے محبت ہو۔ اس لئے کہ حب الوطنی یا وطن سے محبت کا جذبہ ہر شہری میں قوم اور ملک کے لیے لگاؤ، خدمت اور قربانی کی روح پیدا کرتا ہے۔ یہ جذبہ نہ صرف ملک کی حفاظت اور ترقی کے لیے ضروری ہے بلکہ عوام میں ایک دوسرے کے ساتھ یکجہتی اور تعاون بھی پیدا کرتا ہے۔
ہر سال 26 جنوری کو پورے ملک میں یوم جمہوریہ کی تقریبات منعقد ہوتی ہے یومِ جمہوریہ ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ ہم آئین کی پاسداری کریں، وطن سے محبت کریں اور اپنے ملک کو خوشحال اور مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
اس ملک کے ہر شہری کو اس بات کا عہد کرنا چاہئے کہ ہم اپنی پوری توانائی اس ملک کی آئین کی حفاظت کے لئے سرف کردیں گے ۔ نہ تو خود آئین شکنی کریں گے اور نہ ہی کسی اور کو آئین شکنی کی اجازت دیں گے۔ اگر ہر شخص اس طرح کا عہد کرلے تو یہ ملک ایک بار پھر امن و امان اور راحت و سکون کا گہوارہ بن جائے گا۔

