حج بیت اللہ اور مقامات مقدسہ

تحریر : مفتی محمد آصف اقبال قاسمی
حج کا مفہوم
حج کے لغوی معنی ارادہ کرنے کے ہیں اور اصطلاح شرع میں مخصوص اعمال کے ساتھ بیت اللہ کا ارادہ کرنا حج کہلاتاہے۔حج اسلام کے ان پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک رکن ہے جن کے بغیر اسلام کاخیمہ استوار نہیں ہوسکتا۔اللہ تبارک وتعالیٰ نے استطاعت کی قید ساتھ مسلمانوں پر حج کوفرض فرمایا ہے۔ استطاعت سے مراد یہ ہے کہ اتنی مالی وسعت ہو کہ آسانی کے ساتھ بیت اللہ جاکر واپس آسکے نیز اس کے زمانۂ غیبوبت میں اس کے اہل خانہ میں سے وہ افراد جن کی کفالت اس کے ذمہ ہے ان کی کفالت کابھی انتظام ہو۔اسی طرح راستے کا پُر امن ہونا بھی استطاعت کے ذیل میں ہی آتاہے۔ عورت کے لئے محرم کاہونا بھی اسی میں شامل ہے۔ لہذا اگر کسی عورت کا کوئی محرم نہیں ہے تو اس پرحج فرض نہیں ہوگا۔ قرآن کریم میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے حج کے تفصیلی احکام نازل فرمائے ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَ لِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلًاوَ مَنْ کَفَرَ فَاِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ(البقرۃ۔٩٧ )
ترجمہ: اور اللہ کے لئے اس گھر کا حج فرض ہے ا س کے لئے جو استطاعت رکھتاہے اور جو شخص انکار کرے تو اللہ تمام جہاں سے بے نیاز ہے۔
وَ اِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرٰھِیْمَ مَکَانَ الْبَیْتِ اَنْ لَّا تُشْرِکْ بِیْ شَیْءًا وَّ طَھِّرْبَیْتِیَ لِلطَّآءِفِیْنَ وَ الْقَآءِمِیْنَ وَ الرُّکَّعِ السُّجُوْدِ(٢٦ ) وَ اَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ یَاْتُوْکَ رِجَالًا وَّ عَلٰی کُلِّ ضَامِرٍ یَّاْتِیْنَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ(٢٧ )لِّیَشْھَدُوْا مَنَافِعَ لَھُمْ وَ یَذْکُرُوا اسْمَ اللّٰہِ فِیْٓ اَیَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ عَلٰی مَا رَزَقَھُمْ مِّنْ بَھِیْمَۃِ الْاَنْعَامِ فَکُلُوْا مِنْھَا وَ اَطْعِمُوا الْبَآئِسَ الْفَقِیْرَ(٢٨ )ثُمَّ لْیَقْضُوْا تَفَثَھُمْ وَ لْیُوْفُوْا نُذُوْرَھُمْ وَ لْیَطَّوَّفُوْا بِالْبَیْتِ الْعَتِیْقِ(٢٩ )ذٰلِکَ وَ مَنْ یُّعَظِّمْ حُرُمٰتِ اللّٰہِ فَھُوَ خَیْرٌ لَّہٗ عِنْدَ رَبِّہٖ وَ اُحِلَّتْ لَکُمُ الْاَنْعَامُ اِلَّا مَا یُتْلٰی عَلَیْکُمْ فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَ اجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ(٣٠ ۔ الحج)
ترجمہ: جب ہم نے ابراہیم(علیہ السلام)کے لئے خانہ کعبہ کو مقام مقرر کیا کہ میرے ساتھ کسی چیز کوشریک نہ کرنا اور طواف کرنے والوں اور قیام کرنے والوں اور رکوع کرنے والوں (اور) سجدہ کرنے والوں کیلئے میرے گھر کو صاف رکھا کرو اور لوگوں میں حج کے لئے منادی کر دو کہ تمہاری طرف پیدل اور دُبلے دُبلے اونٹوں پر جو دُور (دراز) راستوں سے چلے آتے ہوں (سوار ہو کر) چلے آئیں۔ تاکہ اپنے فائدے کے کاموں کے لئے حاضر ہوں اور معلوم ایام میں چوپائے مویشی جو اللہ نے اُن کو دئیے ہیں ان پر ا للہ کا نام لیں۔ اس میں سے تم بھی کھاؤ اور فقیر درماندہ کو بھی کھلاؤ۔ پھر چاہئے کہ لوگ اپنا میل کچیل دُور کریں اور نذریں پوری کریں اور بیت اللہ کا طواف کریں۔یہ (ہمارا حکم ہے) اور جو شخص اللہ کی مقرر کردہ ادب کی چیزوں کی عظمت رکھے تو یہ اللہ کے نزدیک اس کے حق میں بہتر ہے۔ اور تمہارے لئے مویشی حلال کر دئیے گئے ہیں سوائے اُن کے جو تمہیں پڑھ کر سنائے جاتے ہیں تو بتوں کی پلیدی سے بچو اور جھوٹی بات سے اجتناب کرو۔
حضرت ابراھیم ؑ سے نے جب بیت اللہ کی تعمیر سے فراغت حاصل کرلی تواللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ لوگوں میں حج کا اعلان کردو۔تو ابراھیم ؑ نے بآواز بلند اعلان کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس آواز کو دنیا کے ہر گوشے میں پہنچایا جن لوگوں نے اس آواز پر لبیک کہا انہی لوگوں کو بیت اللہ کی زیارت نصیب ہوتی ہے۔جن لوگوں نے ایک بار لبیک کہا ان کی حاضری ایک بار ہوتی ہے اور جن لوگوں نے بار بار لبیک کہا ان کی حاضری بار بار ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اشہر حج یعنی حج کے ایام شروع ہوتے ہی دنیا کے کونے کونے سے ہزاروں عازمین حج، حج کا ترانہ یعنی تلبیہ پڑھتے ہوئے مکہ مکرمہ پہنچنے لگتے ہیں، لاکھوں حجاج کرام اسلام کے پانچویں اہم رکن کی ادائیگی کے لئے دنیاوی ظاہری زیب وزینت کو چھوڑکر اللہ جل شانہ کے ساتھ والہانہ محبت میں مشاعر مقدسہ تک پروانہ وار پہنچ کر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقہ پر حج کی ادائیگی کرتے ہیں اور اپنا تعلق حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عظیم قربانیوں کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ حاجی کے ہر عمل سے وارفتگی اور دیوانگی ٹپکتی ہے۔ اسی لئے حج کوعاشقانہ عبادت کہتے ہیں حج بڑی نمایاں عبادت ہے کہ یہ بیک وقت روحانی، مالی اور بدنی تینوں پہلوؤں پر مشتمل ہے، یہ خصوصیت کسی دوسری عبادت کو حاصل نہیں ہے۔
حج کی تاکید اور اس کی فضیلت
حج کی ادائیگی کی خصوصی تاکید احادیث نبویہ میں وارد ہوئی ہے اور ان لوگوں کے لئے جن پر حج فرض ہوگیا ہے لیکن دنیاوی اغراض یا سستی کی وجہ سے بلاعذرشرعی کے حج ادا نہیں کرتے، سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے پوچھا کہ کون سا کام بہتر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا۔ پوچھا گیا کہ پھر اس کے بعد؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔ پھر پوچھا گیا کہ پھر اس کے بعد؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حج مبرور۔
(صحیح بخاری۔کتاب الحج۔باب فضل حج المبرور)
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ! ہم دیکھتے ہیں کہ جہاد سب نیک کاموں سے بڑھ کر ہے۔ پھر ہم بھی کیوں نہ جہاد کریں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں بلکہ سب سے افضل جہاد حج ہے جو مبرور ہو۔
(صحیح بخاری۔کتاب الحج۔ باب فضل حج المبرور)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے اللہ کے لیے اس شان کے ساتھ حج کیا کہ نہ کوئی فحش بات ہوئی اور نہ کوئی گناہ تو وہ اس دن کی طرح واپس ہو گا جیسے اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔
(صحیح بخاری۔کتاب الحج۔باب فضل حج المبرور)
حج پوری زندگی میں ایک ہی بار فرض ہے۔ اس کے علاوہ اگر کوئی حج کرتاہے تووہ نفل ہے۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا حج ہر سال (فرض) ہے یا ایک بار؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (ہر سال نہیں) بلکہ ایک بار ہے اور جو ایک سے زائد بار کرے تو وہ نفل ہے۔
(سنن ابوداؤد۔ کتاب المناسک، باب فرض الحج)
حج بدل
جن لوگوں پر حج فرض ہے اور وہ استطاعت کے وقت حج نہیں کرسکے اوربعدمیں وہ سفر کے قابل نہیں رہ سکے تو ان کے ذمہ حج کافریضہ باقی ہے انہیں چاہئے کہ اپنی طرف سے کسی کوبھیج کر حج کرائیں تاکہ ان کے ذمہ سے فریضہ ساقط ہوسکے۔ یا ایسے لوگ جنہوں نے اپنا حج کرلیا ہے اور پھر حج کاثواب حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ بھی اپنی طرف سے کسی کو بھیج کر حج کرا سکتے ہیں۔ اسے حج بدل کہا جاتاہے۔نیز اولاد اپنے والدین کی طرف سے یا والدین اپنی اولاد کی طرف سے اگر حج کرنا چاہیں تو کرسکتے ہیں۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ فضل بن عباس رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیچھے سوار تھے کہ قبیلہ خثعم کی ایک عورت آپ کے پاس فتویٰ پوچھنے آئی تو فضل اسے دیکھنے لگے اور وہ فضلؓ کو دیکھنے لگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فضلؓ کا منہ اس عورت کی طرف سے دوسری طرف پھیرنے لگے۔اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ کے اپنے بندوں پر فریضہ حج نے میرے والد کو اس حالت میں پایا ہے کہ وہ بوڑھے ہو چکے ہیں، اونٹ پر نہیں بیٹھ سکتے کیا میں ان کی جانب سے حج کر لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، اور یہ واقعہ حجۃ الوداع میں پیش آیا۔(سنن ابوداؤد۔ کتاب المناسک،باب الرجل یحج عن غیرہ)
اکثر حجاج کرام زندگی میں ایک ہی بار حج کے لئے جاتے ہیں ان کے لئے حج کے ارکان او راس کے اصطلاحات بالکل نئے ہوتے ہیں جن کو سمجھنا ہر حاجی کے لئے ضروری ہے اس لئے حج اور متعلقات حج کے درمیان استعمال ہونے والے الفاظ کی تشریح ذیل میں پیش کی جاتی ہے۔
حج و عمرہ کی اصطلاحات اور مقامات مقدسہ
اہل حرم : مکہ اور حرم میں بسنے والے لوگوں کو ”اہل حرم“ کہتے ہیں۔
احرام : وہ بغیر سلا لباس جس کے بغیر آدمی میقات سے نہیں گزر سکتا۔
محرِم : احرام باندھنے والا
قِران: حج اور عمرہ دونوں کا احرام،ایک ساتھ باندھنا
قارِن :حجِ قران کرنے والا۔
مفرِد: صرف حج کے لئے احرام باندھنے والا۔
افراد:صرف حج کا احرام باندھنے اور صرف حج کے افعال کرنے کو افراد کہتے ہیں۔
تمتع : حج کا ارادہ رکھنے والے کاپہلے عمرہ کرنا پھر حج کا احرام باندھ کر حج کرنا۔
تلبیہ : لَبَّیْکْ اَللّٰہُمّ لَبَّیْکْ،لَبَّیْکْ لَاشَرِیْکَ لَکَ، لَبَّیْکْ اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ لَاشَرِیْکَ لَکَ۔
میقات : میقات اس مقام کو کہتے ہیں جہاں سے حاجی یا معتمر احرام باندھ کر حج یا عمرہ کی نیت کرتا ہے۔
میقات سے احرام باندھنا حج اور عمرہ کی ادائیگی کا بنیادی شرط اور شرعی حکم ہے۔ شریعت نے مکہ مکرمہ کے اطراف مخصوص حدود مقرر فرمائی ہیں جنہیں میقات کہا جاتا ہے، اور ان حدود کو بغیر احرام عبور کرنا جائز نہیں۔ جو شخص حج یا عمرہ کی نیت سے مکہ کی طرف جائے، اس کے لیے لازم ہے کہ میقات تک پہنچنے سے پہلے یا کم از کم میقات پر احرام کی نیت کرلے۔ چاہے سفر زمینی ہو، سمندری ہو یا فضائی—ہر صورت میں میقات کا لحاظ ضروری ہے۔ فضائی سفر میں جب طیارہ میقات کے قریب پہنچتا ہے تو اعلان کر دیا جاتا ہے، اور اسی وقت مسافر احرام کی نیت کرکے لبیک کہنا شروع کرتے ہیں۔ اگر کوئی شخص بلا عذر میقات سے آگے نکل جائے تو اس پر دم لازم آتا ہے، کیونکہ یہ میقات کی خلاف ورزی ہے۔ اس حکم کی حکمت یہ ہے کہ بندہ جب بیت اللہ کی حاضری کے لیے نکلے تو میقات سے پہلے ہی خود کو دنیاوی پابندیوں سے نکال کر اللہ کی بارگاہ کے لیے خالص بندگی کے لباس میں آ جائے۔
اسلام نے حج اور عمرہ کے لیے پانچ مقامات کو میقات قرار دیا ہے، جہاں پہنچ کر احرام کی نیت کرنا لازم ہے۔ یہ مقامات رسول اللہ ﷺ کے فرمان سے متعین ہیں اور پورے عالم کے مسلمانوں کے لیے یہی شرعی حدود ہیں۔ مدینہ منورہ کی طرف سے آنے والوں کے لیے ذو الحلیفہ (ابیارِ علی)، شام، مصر اور مغرب کی جانب سے آنے والوں کے لیے جُحْفہ، یمن کی طرف سے آنے والوں کے لیے یلملم، نجد اور طائف والوں کے لیے قرن المنازل (السيل الکبیر)، اور عراق کی جانب سے آنے والوں کے لیے ذاتِ عِرق میقات مقرر ہے۔ یہ پانچوں میقات دنیا بھر کے حاجیوں کے لیے مرکزیت رکھتے ہیں، اور ہر شخص اپنے راستے کے مطابق انہی میں سے کسی ایک میقات سے احرام باندھتا ہے۔ ان میقاتوں کا مقصد یہ ہے کہ مکہ مکرمہ میں آنے والا ہر شخص اللہ کی بارگاہ میں داخل ہونے سے پہلے خاص حالتِ عبادت (احرام) میں داخل ہوجائے۔
میقاتی : میقات کا رہنے والا۔
حرم : مکہ مکرمہ کے چاروں طرف کچھ دور تک زمین حرم کہلاتی ہے اس کے حدود پر نشانات ہوئے ہیں اس میں شکار کھیلنا،درخت کاٹنا حرام ہے۔
حِل : حرم کے چاروں طرف میقات تک جو زمین ہے اسکو حل کہتے ہیں۔
اضطباع : اضطباع اس کو کہتے ہیں کہ محرم چادر کو دائیں بغل کے نیچے سے گزار کر بائیں کندھے پر ڈال دے اور دایاں کندھا ننگا رکھے۔
آفاقی : وہ شخص ہے جو میقات کی حدود سے باہر رہتا ہو جیسے عراقی،شامی مصری، ہندوستانی وغیرہ۔
طواف : بیت اللہ کے چاروں طرف سات چکر لگانا۔
شوط : بیت اللہ کے چاروں طرف ایک چکر لگانا۔
رمل : طواف کے پہلے تین پھیروں میں اکڑ کر شانہ ہلاتے ہوئے ذرا تیزی سے چلنا۔
استلام :حجراسود کو بوسہ دینا اور ہاتھ سے چھونا۔
حجرِ اسود: ایک سیاہ پتھرجو بیت اللہ کے دیوار میں گڑا ہوا ہے۔
رکنِ یمانی : خانۂ کعبہ کے جنوب مغربی کونہ کوکہتے ہیں۔
مطاف:طواف کرنے کی جگہ جو بیت اللہ کی چاروں طرف ہے۔
مقام ابراھیم: جنتی پتھر ہے حضرت ابراھیم علیہ السلام نے اس پتھر پر کھڑے ہوکر بیت اللہ کو بنایا تھا مطاف کے مشرقی کنارے پر منبر اور زم زم کے درمیان ایک جالی دار قْبے میں رکھا ہوا ہے۔
ملتزم: حجر اسود اور بیت اللہ کے دروازے کے درمیان کی دیوار جس پر لپٹ کر دعا مانگنا مسنون ہے۔
زم زم: مسجد حرام میں بیت اللہ کے قریب ایک چشمہ ہے جو اب کنویں کی شکل میں ہے جس کو اللہ تعالی نے اپنی قدرت سے اپنے نبی حضرت اسماعیل علیہ السلام اور ان کی والدہ کے لئے جاری کیاتھا۔
ایّام تشریق : ذی الحجہ کی نویں،دسویں،گیارہویں، بارہویں ا ور تیرہویں تاریخوں کو ”ایام تشریق“ کہا جاتاہے کیونکہ ان میں ہر نماز فرض کے بعد تکبیر تشریق پڑھی جاتی ہے۔تکبیر تشریق یہ ہے۔اَللّٰہُ اَکْبَرُ،اَللّٰہُ اَکْبَرُ لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ
جمرات: منٰی میں تین مقامات ہیں جہاں ستون بنے ہوئے ہیں یہاں پر کنکریاں ماری جاتی ہیں ان کے نام جمرۃ الاولی، جمرۃ الوسطی اورجمرۃ العقبہ ہیں۔
رمی: جمرات پر کنکریاں مارنا۔
عمرہ: میقات سے احرام باندھ کربیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کے درمیان سعی کرنا۔
سعی: صفا مروہ کے درمیان مخصوص طریق سے سات چکر لگانا۔
صفا ومروہ :بیت اللہ کے قریب دو پہاڑیوں کا نام ہے جن کے درمیان سعی کی جاتی ہے۔
میلین اخضرین :صفا ومروہ کے درمیان دو سبز ستونوں کے نام ہیں۔
یومِ عرفہ: نویں ذی الحجہ، جس روز حج ہوتا ہے اور حاجی لوگ عرفات میں وقوف کرتے ہیں۔
عرفات : مکہ مکرمہ سے تقریباًنو میل مشرق کی طرف ایک میدان ہے جہاں پر حجاج کے لئے نویں ذی الحجہ کو ٹھہرنا ضروری ہے۔
جبل رحمت :عرفات کا ایک پہاڑ ہے، اسی کے قریب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا موقف ہے جہاں سیاہ پتھروں کا فرش ہے۔
مسجد خیف : منٰی کی بڑی مسجد کا نام ہے جو منٰی کی شمالی جانب میں پہاڑی سے متصل ہے۔
مسجد نمرہ: عرفات کے کنارے پر ایک مسجد ہے۔
مدعٰی: دعامانگنے کی جگہ مراد اس سے مسجد حرام اور مکہ مکرمہ کے درمیان ایک جگہ ہے جہاں دعا مانگنا مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کے وقت مستحب ہے۔
ایام نحر: دس ذی الحجہ سے بارہویں تک۔
حلق : سر کے بال منڈانا۔
قصر: بالوں کو کتروانا۔
دم :احرام کی حالت میں بعضے ممنوع افعال کرنے سے قربانی واجب ہوتی ہے اس کو دم کہتے ہیں۔
مزدلفہ: منٰی اور عرفات کے درمیان ایک میدان ہے جو منٰی سے تین میل مشرق کی طرف ہے۔
محسّر: مزدلفہ سے ملا ہوا ایک میدان ہے جہاں سے گزرتے ہوئے دوڑ کر نکلتے ہیں اس جگہ اصحاب فیل پرعذاب نازل ہواتھا۔
موقف : ٹھہرنے کی جگہ،حج کے افعال میں اس سے مراد میدانِ عرفات یا مزدلفہ میں ٹھہرنے کی جگہ ہوتی ہے۔
وقوف: وقوف کے معنی ٹھہرنا اور احکام حج میں اس سے مراد میدان عرفات یا مزدلفہ میں خاص وقت میں ٹھہرنا۔
ہدی: جو جانور حاجی حرم میں قربانی کرنے کو ساتھ لے جاتا ہے.
نحر: قربانی کرنا۔
یلملم: مکہ مکرمہ سے جنوب کی طرف ایک پہاڑ ہے یہ یمن،ہندوستان اور پاکستان سے آنے والوں کی میقات ہے۔
اہل حل : وہ لوگ جو حدودِ میقات کے اندر اور حدودِ حرم سے باہر رہتے ہیں انہیں اہل حل کہتے ہیں وہ اپنے مقام سے احرام باندھتے ہیں۔
طوافِ قدْوم :مکۃ المکرمہ میں داخل ہونے کے بعد جو پہلا طواف کیا جاتا ہے اسے طوافِ قدوم کہتے ہیں۔
طوافِ زیارت: طواف زیارت حج کا رکن ہے۔ یہ دس ذی الحجہ کی صبح صادق سے لے کربارہ ذی الحجہ غروبِ آفتاب سے پہلے تک ہوسکتا ہے۔
طواف وداع: بیت اللہ شریف سے واپسی کے وقت طواف کرنا، طواف وداع کہلاتا ہے۔
طواف عمرہ: یہ طواف عمرہ کرنے والوں پر فرض ہے۔
رکن :خانہ کعبہ کا گوشہ جہاں اس کی دو دیواریں ملتی ہیں۔
رکن اسود: جنوب و مشرق کا گوشہ جہاں حجر اسود نصب ہے۔
رکن عراقی:خانہ کعبہ کے پورب والی دیوار میں آدھا سے تھوڑادکھن حصہ میں دروازہ ہے۔
رکن شامی: شمال و مغرب کے گوشہ میں سنگِ اسود کی طرف منہ کرکے کھڑے ہوں تو بیت المقدس سامنے ہوگا۔
رکن یمانی: مغرب اور جنوب کے گوشہ میں واقع ہے۔
میزاب رحمت: سونے کا پرنالہ جو رکن عراقی اور رکن شامی کی بیچ کی دیوار پر چھت پر نصب ہے۔
حطیم:بیت اللہ کی شمالی دیوار کی طرف زمین کا ایک حصہ جس کے اردگرد ایک قوسی کمان کے انداز کی چھوٹی سی دیوار بنا دی گئی ہے اور دونوں طرف آمد و رفت کا دروازہ ہے۔ اس حصہ زمین کو طواف میں شامل کرنا واجب ہے۔
باب السلام:مسجد نبوی کا وہ دروازہ جس سے پہلی مرتبہ داخل ہونا افضل ہے۔
مسعیٰ:وہ فاصلہ جو صفاومروہ کے درمیان ہے اس فاصلہ کو دوڑ کر طے کیا جاتا ہے۔
تنعیم(مسجد عائشہ): یہ وہ مقام ہے جہاں سے مکہ مکرمہ میں قیام کے دوران عمرہ کے لئے احرام باندھا جاتا ہے۔
ذوالحلیفہ:یہ مدینہ سے آنے والوں کے لئے میقات ہے۔
حجفہ:یہ اہل شام کا میقات ہے۔
قرن المنازل:نجد کی طرف سے آنے والوں کے لئے میقات ہے۔
حجۃ الوداع
نبی کریم کے حجۃ الوداع کاواقعہ جو حدیث کی کتابوں میں بڑی تفصیل سے آیا ہے جس میں تمام ارکان حج کاتذکرہ موجود ہے اور اس کا تذکرہ باعث برکت بھی ہے اس لئے ذیل میں اسے نقل کیاجاتاہے۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نو برس تک مدینہ منورہ میں رہے اور حج نہیں کیا، پھر لوگوں میں پکارا گیا دسویں سال کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حج کو جانے والے ہیں، پھر مدینہ میں بہت سے لوگ جمع ہو گئے اور سب چاہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کریں اور ویسا ہی کام کریں (حج کرنے میں) جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کریں۔ غرض ہم لوگ سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، یہاں تک کہ ذوالحلیفہ پہنچے اور وہاں اسماء بنت عمیس جنیں اور محمد، ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بیٹا پیدا ہوئے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہلا بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”غسل کر لو اور لنگوٹ باندھ لو ایک کپڑے کا اور احرام باندھ لو۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت مسجد میں پڑھیں اور قصواء اونٹنی پرسوار ہوئے یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر وہ بیداء پر سیدھی ہوئی تو میں نے دیکھا آگے کی طرف جہاں تک کہ میری نظر گئی کہ سوار اور پیادے ہی نظر آتے تھے اور اپنے دا ہنی طرف بھی ایسی ہی بھیڑ تھی اور بائیں طرف بھی ایسی ہی بھیڑ تھی اور پیچھے بھی ایسی ہی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے بیچ میں تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن شریف اترتا جاتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس حقیقت کو خوب جانتے تھے اور جو کام آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا وہی ہم نے بھی کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے توحید کے ساتھ لبیک پکارا اور کہا لَبَّیْکْ اَللّٰہُمّ لَبَّیْکْ،لَبَّیْکْ لَاشَرِیْکَ لَکَ، لَبَّیْکْ اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ لَاشَرِیْکَ لَکَ۔ اور لوگوں نے بھی یہی لبیک پکارا جو اب لوگ پکارتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم لبیک ہی پکارتے رہے اورحضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہم حج کے سوا اور کچھ ارادہ نہیں رکھتے تھے اور عمرہ کو پہچانتے ہی نہ تھے۔ یہاں تک کہ جب ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیت اللہ میں آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکن کو چھوا (یعنی حجر اسود کو) اور طواف میں تین بار اچھل اچھل کر چھوٹے ڈگ رکھ کے شانے اچھال اچھال کر چلے اور چار بار عادت کے موافق چلے پھر مقام ابراہیم پر آئے اور یہ آیت پڑھی وَاتَّخِذْوا مِنْ مَقَامِ اِبرَاھِیمَ مْصَلّٰی(مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ مقرر کرو) اور مقام کو اپنے اور بیت اللہ کے بیچ میں کیا، پھر میرے والدکہتے تھے اور میں نہیں جانتا کہ انہوں نے ذکر کیا ہو مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے ذکر کیا ہو گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں اور ان میں قْل ھْوَ اللّہ اَحَداورقْل یَا َاَیُّھَالْکَافِرْونَ پڑھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجر اسود کے پاس لوٹ کر گئے اور اس کو بوسہ دیا اور اس دروازہ سے نکلے جو صفا کی طرف ہے پھر جب صفا کے قریب پہنچے تو یہ آیت پڑھی اِنَّ الصَّفَا والمَروَۃَ مِن شَعَاءِرِ اللّٰہِِ یعنی ”صفا اور مروہ دونوں اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ ”ہم شروع کرتے ہیں جس سے شروع کیا اللہ تعالیٰ نے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفا پر چڑھے یہاں تک کہ بیت اللہ کو دیکھا اور قبلہ کی طرف دیکھا اور اللہ تعالیٰ کی توحید بیان کی اور اس کی بڑائی بیان کی (یعنی لاَ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ، لَہُ الْمُلْکُ وُلُہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ، لَااِلٰہَ اِلّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ، اَنْجَزَ وَعْدَہٗ، وَنَصَرَ عَبْدَہٗ،وَھَزَمَ الْاَحْزَابَ۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے سواکوئی معبود لائق عبادت نہیں، وہ اکیلا ہے، اس نے اپنا وعدہ پورا کیا (یعنی دین کے پھیلانے کا اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کا) اور اس نے اپنے بندہ کی مدد کی (یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی) اور اس نے اکیلے سب لشکروں کو شکست دی۔“ پھر اس کے بعد دعا کی، پھر ایسا ہی کہا، پھر دعا کی غرض، تین بار ایسا ہی کیا پھر اترے اور مروہ کی طرف چلے یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم میدان کے بیچ میں اترے تو دوڑے یہاں تک کہ مروہ پر پہنچے پھر مروہ پر بھی ویسا ہی کیا جیسے کہ صفا پر کیا تھا یعنی وہ کلمات کہے اور قبلہ رخ کھڑے ہو کر دعا کی، یہاں تک کہ جب مردہ پر طواف تمام ہوا (یعنی سات شوط ہو چکے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اگر پہلے سے معلوم ہوتا اپنا کام جو بعد میں معلوم ہوا تو میں ہدی ساتھ نہ لاتا (اور مکہ ہی میں خرید لیتا) اور اپنے اس احرام حج کو عمرہ کر ڈالتا اب تم میں سے جس کے ساتھ ہدی نہ ہو وہ احرام کھول ڈالے اور اس کو عمرہ کر لے۔“ پھر سراقہؓ بن مالک جعشم کھڑے ہوئے اور عرض کی کہ یا رسول اللہ! یہ حج کو عمرہ کر ڈالنا ہمارے اسی سال کے لیے خاص ہے یا ہمیشہ کے لیے اس کی اجازت ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمیشہ کے لیے اجازت ہے اور ہمیشہ کے لیے ہے۔“ اور حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ یمن سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹ لے کر آئے اورحضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو دیکھا کہ ان میں ہیں جنہوں نے احرام کھول ڈالا اور رنگین کپڑے پہنے ہوئی ہیں اور سرمہ لگائے ہوئی ہیں تو حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے برا مانا تو انہوں نے فرمایا کہ میرے والدنے اس کاحکم فرمایا۔ پھر راوی نے کہا کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ عراق میں فرماتے تھے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا غصہ کرتا ہواحضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا پر ان کے احرام کھولنے کے سبب سے جو انہوں نے کیا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی بات کے پوچھنے کو جو اس نے ذکر کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی کہ میں نے اس کو برا جانا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فاطمہ نے سچ کہا سچ کہا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے کیا کہا جب حج کا قصد کیا؟“ تو میں نے عرض کی کہ میں نے کہا: یااللہ! میں اہلال کرتا ہوں اس کا جس کا اہلال کیا ہے تیرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے ساتھ ہدی ہے اب تم بھی احرام نہ کھولو۔“ جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر وہ اونٹ جوحضرت علی رضی اللہ عنہ یمن سے ساتھ لائے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ لائے سب مل کر سو اونٹ ہو گئے، حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر سب لوگوں نے احرام کھول ڈالا اور بال کتروائے مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اور جن کے ساتھ قربانی تھی (کہ وہ محرم ہی رہے) پھر جب ترویہ کا دن ہوا (یعنی ذی الحجہ کی آٹھویں تاریخ) تو سب لوگ منیٰ کو چلے اور حج کی لبیک پکاری اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی سوار ہوئے اور منیٰ میں ظہر اور عصر اور مغرب اور عشاء اور فجر (پانچ نمازیں) پڑھیں۔ پھر تھوڑی دیر ٹھہرے یہاں تک کہ آفتاب نکل آیا اور حکم فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خیمہ کا جو بالوں کا بنا ہوا تھا کہ نمرہ میں لگایا جائے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے اور قریش یقین کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم المشعر الحرام میں وقوف کریں گے جیسے سب قریش کے لوگوں کی ایام جاہلیت میں عادت تھی اور آپ وہاں سے آگے بڑھ گئے یہاں تک عرفات پہنچے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپناخیمہ نمرہ میں لگایا اور اس میں اترے یہاں تک کہ جب آفتاب ڈھل گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا: قصواء اونٹنی کسی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم وادی کے بیچ میں پہنچے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں پر خطبہ دیا اور فرمایا: تمہارے خون اور اموال ایک دوسرے پر حرام ہیں جیسے آج کے دن کی حرمت ہے، اس مہینے کے اندر اس شہر کے اندر اور ہر چیز زمانہ جاہلیت کی میرے دونوں پیروں کے نیچے رکھ دی گئی (یعنی ان چیزوں کا اعتبار نہ رہا) اور جاہلیت کے خون بے اعتبار ہو گئے اور پہلا وہ خون جو میں اپنے خونوں میں سے معاف کئے دیتا ہوں۔ ابن ربیعہ کا خون کہ وہ بنی سعد میں دودھ پیتا تھا اور اس کو ہذیل نے قتل کر ڈالا (غرض میں اس کا بدلہ نہیں لیتا) اور اسی طرح زمانہ جاہلیت کا سود سب چھوڑ دیا گیا۔ (یعنی کوئی اس وقت کا چڑھا سود نہ لے) اور پہلے جو سود کہ ہم اپنے یہاں کے سود میں سے چھوڑ دیتے ہیں (اور طلب نہیں کرتے) عباس بن عبدالمطلب کا سود ہے اس لیے وہ سب معاف کر دیا گیا اور تم لوگ اب اللہ سے ڈرو کہ عورتوں پر زیادتی نہ کرو اس لیے کہ ان کو تم نے اللہ پاک کی امان سے لیا ہے اور تم نے ان کے ستر کواللہ تعالیٰ کے کلمہ سے حلال کیا ہے اور تمہارا حق ان پر یہ ہے کہ تمہارے بچھونے پر کسی ایسے شخص کو نہ آنے دیں (یعنی تمہارے گھر میں) جس کا آنا تم کو ناگوار ہو۔ پھر اگر وہ ایسا کریں تو ان کو ایسا مارو کہ ان کو سخت چوٹ نہ لگے (یعنی ہڈی وغیرہ نہ ٹوٹے، کوئی عضو ضائع نہ ہو۔ حسن صورت میں فرق نہ آئے کہ تمہاری کھیتی اجڑ جائے) اور ان کا حق تمہارے اوپر اتنا ہے کہ ان کی روٹی اوران کا کپڑا دستور کے موافق تمہارے ذمہ ہے اور تمہارے درمیان میں ایسی چیزچھوڑے جاتا ہوں کہ اگر تم اسے مضبوط پکڑے رہو تو کبھی گمراہ نہ ہو اللہ کی کتاب اور تم سے سوال ہو گا (قیامت میں) اور میرا حال پوچھا جائے گا پھر تم کیا کہو گے؟“ تو ان سب نے عرض کی کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ بے شک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کا پیغام پہنچایا اور رسالت کا حق ادا کیا اور امت کی خیر خواہی کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگشت شہادت سے اشارہ کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے آسمان کی طرف اٹھاتے تھے اور لوگوں کی طرف جھکاتے تھے اور فرماتے تھے: ”یا اللہ! گواہ رہ، یا اللہ! گواہ رہ، یا اللہ! گواہ رہ۔“ تین بار یہی فرمایا اور یونہی اشارہ کیا پھر اذان اور تکبیر ہوئی اور ظہر کی نماز پڑھی اور پھر اقامت کہی گئی اور عصر پڑھی اور ان دونوں کے بیچ کچھ نہیں پڑھا۔ (یعنی سنت وغیرہ) پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے یہاں تک کہ کھڑے ہونے کی جگہ میں آئے۔ پھر اونٹنی کا پیٹ کر دیا پتھروں کی طرف اور پگڈنڈی کو اپنے آگے کر لیا اور قبلہ کی طرف منہ کیا اور کھڑے رہے یہاں تک کہ آفتاب ڈوب گیا اور زردی تھوڑی تھوڑی جاتی رہی اور سورج کی ٹکیا ڈوب گئی اور اسامہ کو اپنے پیچھے بٹھا لیا اور لوٹے اور قصواء کی مہار اس قدر کھینچی ہوئی تھی کہ اس کاسر کجاوہ کے آگے مورک میں لگ گیا تھا (مورک وہ جگہ ہے جہاں سوار بعض وقت تھک کر اپنا پیر جو لٹکا ہوا رہتا ہے اس جگہ رکھتا ہے) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے ہاتھ سے اشارہ کرتے تھے کہ ”اے لوگو! سکون کے ساتھ آرام سے چلو۔“ اور جب کسی ریت کی ڈھیری پر آ جاتے (جہاں بھیڑ کم پاتے) تو ذرا مہار ڈھیلی کر دیتے یہاں تک کہ اونٹنی چڑھ جاتی آخر مزدلفہ پہنچ گئے اور وہاں مغرب اور عشاء پڑھی ایک اذان سے (جو مغرب سے پہلے کہی) اور دو تکبیروں سے اور ان دونوں فرضوں کے بیچ میں نفل کچھ نہیں پڑھے (یعنی سنت وغیرہ نہیں پڑھی) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ رہے یہاں تک کہ صبح برآمد ہوئی پھر فجر کی نماز ادا کی۔جب فجر خوب ظاہر ہو گئی اذان اور تکبیر کے ساتھ نماز پڑھی، پھر قصواء اونٹنی پر سوار ہوئے یہاں تک کہ المشعر الحرام میں آئے اور وہاں قبلہ کی طرف منہ کیا اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور اللہ اکبر کہا اور لاالٰہ الااللہ کہا اور اس کی توحید پکاری اور وہاں ٹھہرے رہے یہاں تک کہ روشنی بخوبی ہو گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے قبل طلوع آفتاب کے لوٹے اور فضل بن عباس رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے بٹھا لیا اور فضل ایک نوجوان اچھے بالوں والے گورے چٹے خوبصورت جوان تھے۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلے تو ایک گروہ عورتوں کا ایسا چلا جاتا تھا کہ ایک ایک اونٹ پر ایک عورت سوار تھی اور سب چلی چاتی تھیں اور فضل ان کی طرف دیکھنے لگے سو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فضل کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور فضل نے منہ اپنا دوسری جانب پھیر لیا اور دیکھنے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اپنا ہاتھ ادھر پھیر کر ان کے منہ پر رکھ دیا تو فضل پھر دوسری طرف منہ پھیر کر پھر دیکھنے لگے یہاں تک کہ بطن محسر میں پہنچے تب اونٹنی کو ذرا چلایا اور بیچ کی راہ لی جو جمرہ کبریٰ پر جا نکلی ہے یہاں تک کہ اس جمرہ کے پاس آئے جو درخت کے پاس ہے (اور اسی کو جمرہ عقبہ کہتے ہیں) اور اس کوسات کنکریاں ماریں اور ہر کنکری پر اللہ اکبر کہتے ایسی کنکریں جو چٹکی سے ماری جاتی ہیں اور وادی کے بیچ میں کھڑے ہو کر ماریں۔ پھر نحر کی جگہ آئے اور تریسٹھ اونٹ اپنے دست مبارک سے نحر کئے۔ باقی حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو دئیے کہ انہوں نے نحر کئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنی ہدی میں شریک کیا۔ پھر حکم فرمایا کہ ہر اونٹ میں سے ایک ٹکڑا لیں اور ایک ہانڈی میں ڈالا اور پکایا گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دونوں نے اس میں سے گوشت کھایا اور اس کا شوربہ پیا پھر سوار ہوئے اور بیت اللہ کی طرف آئے اور طواف افاضہ کیا اور ظہر مکہ میں پڑھی اور بنی عبدالمطلب کے پاس آئے کہ وہ لوگ زمزم پر پانی پلا رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانی بھرو اے اولاد عبدالمطلب! اگر مجھے یہ خیال نہ ہوتا کہ لوگ بھیڑ کر کے تمہیں پانی نہ بھرنے دیں گے تو میں بھی تمہارا شریک ہو کر پانی بھرتا۔“ (یعنی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھرتے تویہ سنت ہو جاتا تو پھر ساری امت بھرنے لگتی) اور ان کی سقایت جاتی رہتی، پھر ان لوگوں نے ایک ڈول آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے پیا۔(صحیح مسلم۔ کتاب الحج، باب حجۃ النبی ﷺ)
جن لوگوں پرحج فرض ہوچکا ہے انہیں چاہئے کہ جلدی حج کی فرضیت اداکرلیں اس لئے کہ انہیں نہیں معلوم کے بعد میں حالات کیا ہوں اور حج کے سفر کے لائق رہیں یا نہ رہیں۔
جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ حج کی توفیق دیں انہیں چاہئے کہ حج سے فراغت کے بعد مدینہ جاکر نبی کریم ﷺ کے قبر مبارک کی زیارت کریں اور آپ ﷺ کو ھدیۂ سلام پیش کریں۔انتظامی امور کے تحت آج کل حکومت سعودیہ عربیہ کچھ حاجیوں کو پہلے ہی مدینہ بھیج دیتی ہے اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے بلکہ ان لوگوں کو یہ سعادت نصیب ہوجاتی ہے کہ وہ ان مقامات سے گزرتے ہوئے حج کے لئے آتے ہیں جن مقامات سے نبی کریم ﷺ گزر کر حج کے لئے تشریف لائے۔
حج کی توفیق اور اس کے لئے اسباب کا مہیا ہونا یہ سب اللہ کی طرف سے ایک خاص عطاہے جو مخصوص بندوں کونصیب ہوتی ہے۔اس لئے اس نعمت کی قدر کرنی چاہئے اور حج کے درمیان کوئی ایسی حرکت نہیں کرنی چاہئے جو تمام کے تمام اعمال کو غارت کردے۔ اسی طرح حج سے فراغت کے بعد اپنی باقی ماندہ زندگی اللہ کی عبادت، خدمت خلق اور ذکر وتلاوت کے ساتھ گزارنے کی کوشش کرنی چاہئے۔حج چونکہ انسان کے تمام گناہوں کے مٹادینے کاذریعہ ہے اور حج مبرور کرنے والا ایسا ہے جیسے وہ آج ہی ماں کے پیٹ سے جنا ہے۔اس لئے اب پھر اپنی زندگی کو معصیت میں گزار کر دوبارہ اپنے نامۂ اعمال میں دھبے نہ لگائے بلکہ اس کیفیت کوبرقرار رکھنے کے ہمیشہ استغفار کی کثرت کرتے رہناچاہئے۔ اسی طرح تکبر، ریا اور شہرت سے بچنے کی پوری کوشش کرنی چاہئے۔
